حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے :

حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے :" جب دنیا تمہارے پاس آئے تو خرچ کرو کیونکہ وہ تم کو ہی پہنچے گی اور جب وہ تم سے منہ موڑے تب بھی خرچ کرو آخرکار وہ رہنے والی نہیں ہے -" حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اور انکے صاحبزادوں حضرت حسین و حسن رضہ اللّٰہ تعالٰی عنہ کی سخاوت کا دلچسپ قصہ

حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے :" جب دنیا تمہارے پاس آئے تو خرچ ... 31 مئی 2018 (22:53) 10:53 PM, May 31, 2018

حضرت علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کا ارشاد ہے :" جب دنیا تمہارے پاس آئے تو خرچ کرو کیونکہ وہ تم کو ہی پہنچے گی اور جب وہ تم سے منہ موڑے تب بھی خرچ کرو آخرکار وہ رہنے والی نہیں ہے -"

حضرت حسین و حسن رضہ اللّٰہ تعالٰی عنہ اور حضرت عبداللّٰہ ابن جعفر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ تینوں حج کے لیے جا رہے تھے توشہ اور زاد راہ کا اونٹ پیچھے رہ گیا تھا بھوک اور پیاس سے بے تاب ہو کر یہ حضرات راستے میں ایک بڑھیا کے خیمے میں گئے اور اس سے کہا -:"ہم کو بہت پیاس لگی ہے کچھ پینے کو دو -"

اس نے ایک بکری کا دودھ نکال کر ان حضرات کو پیش کیا -دودھ پی کر انہوں نے کہا "کچھ کھانے کے لیے لے آؤ"اس پر اس نے کہا :"کھانے کو تو کچھ موجود نہیں -تم اسی بکری کو ذبح کر کے کھا لو -"

ان حضرات نے ایسا ہی کیا -کھانے پینے سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا :"ہم قریشی ہیں -جب سفر سے واپس آئیں گے تو تم ہمارے پاس آنا ہم تمہاری اس مہربانی کا عوض دیں گے -"

یہ کہہ کر یہ حضرات رخصت ہو گئے

اس عورت کا شوہر آیا تو وہ ناراض ہوا کہ :"تو نے بکری ایسے لوگوں کی خاطر ذبح کرا دی جن سے ہماری واقفیت تھی اور نہ دوستی " اس واقعہ کو کچھ مدت گزر گئی اس عورت اور اس کے شوہر کو ناداری نے پریشان کیا یہ تباہ حال خاندان مدینہ منورہ پہنچا -یہ لوگ اونٹ کی لید چن چن کر بیچنے لگے تاکہ اپنا پیٹ بھر سکیں- ایک دن یہ عورت کہیں جا رہی تھی حضرت حسن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اپنے مکان کی ڈیوڑھی پر کھڑے تھے -آپ نے اس عورت کو پہچان لیا اور روک کر کہا :"اے !بڑھیا تو مجھے پہچانتی ہے " اس نے کہا :"نہیں میں آپ کو نہیں جانتی" آپ نے کہا میں وہی ہوں جو فلاں روز تیرا مہمان ہوا تھا -" اس کے بعد آپ نے اس خاتون ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار مرحمت کیے اور اپنے غلام کے ہمراہ اس کو حضرت حسین رضی اللّہ تعالٰی عنہ کے پاس بھیجا

آپ نے عورت سے پوچھا "اے خاتون! میرے بھائی نے تجھے کیا دیا "اس نے کہا :"ایک ہزار بکریاں اور ایک ہزار دینار عطا فرمائے "

حضرت حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے بھی اتنا ہی انعام اس کو دیا اور اپنے غلام کے ہمراہ اپنے بھائی عبداللّٰہ ابن جعفر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے پاس بھیجا انہوں اس بوڑھی عورت سے پوچھا :" حسین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے تجھے کتنا مال دیا ہے" عورت نے کہا :"دونوں حضرات نے دو ہزار بکریاں اور دو ہزار دینار عطا فرمائے ہیں "جناب عبداللّٰہ نے بھی اس کو دو ہزار دینار اور دو ہزار بکریاں عطا فرمائیں -الغرض وہ بڑھیا چار ہزار دینار اور چار ہزار بکریاں لے کر اپنے شوہر کے پاس چلی گئی