جمہوری حکومتوں نے کتنا قرضہ لیا اور فوجی حکومتوں نے کتنا قرض لیا۔کس کے دور میں زیادہ ترقی ہوئی۔ پڑھئے اہم حقائق

جمہوری حکومتوں نے کتنا قرضہ لیا اور فوجی حکومتوں نے کتنا قرض لیا۔کس کے دور میں زیادہ ترقی ہوئی۔ پڑھئے اہم حقائق

جمہوری حکومتوں نے کتنا قرضہ لیا اور فوجی حکومتوں نے کتنا قرض لیا۔کس کے دور ... 31 مئی 2018 (21:17) 9:17 PM, May 31, 2018

پاکستان کی تسلسل والی حکومتوں کے دوران اور پاکستان بننے سے لیکر 2008 تک کی اکانومی پر اوریا مقبول جان کا موقف :

شروع سے لیکر اب تک اوردس سال کی تسلسل والی حکومت کے دواران پاکستان کی اکانومی کے بارے میں بات کرتے ہوئے اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ "پاکستان کا سارا کیس ہمارے سامنے ہے - اور پاکستان میں ایک نعرہ بڑے زور سے لگایا جاتاہے کہ پاکستان میں جمہوری تسلسل نہیں ہے لیے پاکستان ترقی نہیں کر پاتا -اب ہم جو پاکستان میں پچھلے دس سال سے تسلسل چل رہا ہے اسے پچھلے سالوں کے سامنے کھڑا کرتے ہیں -1951میں پاکستان میں جو گروتھ ریٹ تھا وہ 10.22 فیصد تھا - اس کے بعد 1964 میں یہ 9.38 فیصد تھا اسکے بعد 1969 میں یہ یحیٰ کے دور میں یہ 9.79 فی صد تھا -اسس پہلے ایوب خان کا دور تھا - پھر اسکے بعد 1984میں جنرل ضیاء الحق کا دور تھا 8.71 تھی اس کے بعد 2004 میں8.96 تھی یہ ہے ہمارا جی ڈی پی کا ریٹ -اس میں ریجن میں جو دو بڑے ملک ہیں ان کو گنتے ہیں - چین پاکستان اور بھارت -1960 سے لیے کر 1969 تک چین کی جو گروتھ ریٹ تھی وہ تین پہ تھی انڈیا کی جو تھی چار پی تھی اور جو تھی وہ سات پہ تھی پورے 1970 سے لیکر 1979 تک کا دور قائد عوام فخر ایشیا کا دور انڈیا تین فیصد ,پاکستان پانچ فیصد اور چائنہ کی گروتھ ریٹ سات پہ آگئی جو ہم تھے اس وقت اس ہ چائنہ آگی -80 سے 89 تک ضیاء الحق کا دور جسے ہر بندہ گالی دیتا ہے کھڑا ہو کے پانچ سے واپس سات پر آ گئی ,انڈیا چھ پہ چلا گیا اور چائنہ دس پہ چلا گیا -جو 1960 میں تین پر تھا 2000 سے 2008 تک ہم سٹیبل ہی رہے انڈیا جو ہے وہ سات پہ چلا گیا اور چائنہ دس پہ چلا گیا -اب صورتحال یہ ہے کہ 40.30 فید ڈالر ہم نے قرضہ لیا ہے 2008 تک - پاکستان کے جو کچھ ہونا تھا نا برا وہ ایک ساتھ ہوا کشمیر میں جنگ ہوئی , لیاقت علی خان کا قتل ہوا , 1965 کی جنگ ہوئی اس کے بعد 1971 میں ملک ٹوٹا اس کے بعد بھٹو کا دور اس کا قتل ہوا اس کے بعد ضیا الحق آگئے , کہتے ہیں کلاشنکوف آئی ,ہیروئن آئی -اسکے بعد مشرف کا دور آتا ہے اس پہ آپ چالیس بلین ٹرلین کا قرضہ لیتے ہیں آپ پوری دنیا میں سے سارے قرضے ایسے ہیں پراجیکٹ لگاتے ہیں جو آپ کما کے واپس دے سکتے ہیں ہیں -آپ منگلہ ڈیم بناتے ہیں آپ تربیلہ ڈیم بناتے ہیں آپ ڈھاکہ سٹیل مل لگاتے ہیں ,آ پ کراچی کی سٹیل مل لگاتے ہیں آپ چشمہ پاور پلانٹ لگاتے ہیں گنتے جائیں ,گنتے جائیں -یہ جو آپ چلیس بلین کا قرضہ لیا ہے اس کے سارے پراجیکٹس لگاتے ہیں -

اس کے بعد زرداری نے بیس ارب ڈالر قرضہ لیا کدھر لگایا کچھ پتہ نہیں -نواز شریف نے قرض لیا چونتیس اعشاریہ ایک ملین -اب جو بجٹ پیش ہوا ہے -پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ نان ,الیکٹڈ آدمی نے بجٹ پیش پیش کیا ہے - وہ بھی کہتے ہیں تیرہ ارب ڈالر ہمیں قرضہ لینا پڑے گا - یعنی پچانوے ارب روپے کے قریب یہ ہو جائے گا - اب ہر کئی بکواس کرتا ہے کہ وہ جی فوج کھا گئے -اب تک جو قرضہ لیا گیا ہے اس میں سے فوجی حکومتوں نے لیا ہے بارہ فیصد ,باقی بتیس فیصد لیا ہے زرداری نے اور چھپن فیصد نواز شریف نے اور باقی ساروں نے مل کر کھایا ہے -حالانکہ میں فوجی حکومت کے حق میں نہیں ہوں - اب جو بجٹ ہے اس میں ہم تیس فیصد قرضہ واپس کریں گے -ستائیس فیصد فوج میں جائے گا اور باقی پینتالیس فیصدعوام پہ لگے گا - اب یہ قرض بڑھتا جائے گا آپ کمائیں گے اور قرض اتاریں گے بڑے خوش ہیں آپ کہ آپ نے تسلسل پورا کر دیا - "

متعلقہ خبریں