فالسے کے حیرت انگیز فوائد اور اہم ملومات پڑھئے

فالسے کے حیرت انگیز فوائد اور اہم ملومات پڑھئے

فالسے کے حیرت انگیز فوائد اور اہم ملومات پڑھئے 31 مئی 2018 (18:32) 6:32 PM, May 31, 2018

براعظم ایشیاء کا مقبول پھل فالسہ اپنے ذائقے اور فرحت بخش اثرات کے باعث بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا سائنسی نام Grewia Asiatica- ہے۔ جبکہ اس کا تعلق Tiliaceae- خاندان سے ہے۔ یہ پیاس کی شدت میں کمی اور خون و دل کے امراض کو ختم کرنے کی تاثیر رکھتا ہے۔ فالسے کا درخت 4 سے 8 میٹر تک اونچائی والا ایک چھوٹا درخت ہوتا ہے۔ اس کے پتے دیکھنے میں دل کی شکل کے ہوتے ہیں جن کی لمبائی 20 سینٹی میٹر اور چوڑائی 16.25 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ ان پر موسم بہار میں چھوٹے چھوٹے پیلے رنگ کے پھول نکلتے ہیں جن کی پتیوں کی لمبائی 2 ملی میٹر ہوتی ہے۔ پھل گول ہوتا ہے جس میں 5 ملی میٹر چوڑا بیج پایا جاتا ہے۔ فالسے کا پھل بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔ اس میں 81 فیصد پانی کے علاوہ پروٹین ، چکنائی ، ریشے اور نشاستہ پایا جاتا ہے- فالسہ ایک ایسا پھل ہے جس میں لذت کے علاوہ بیشمار طبی اور غذائی فوائد بھی پائے جاتے ہیں۔ گرمیوں کے موسم میں فالسہ بہت بڑی قدرتی نعمت ہے۔ فالسے میں وٹامن بی اور سی کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جبکہ آئرن اور نمکیات اس کے اہم غذائی اجزا ہیں۔ اس میں 81 فیصد پانی کے علاوہ پروٹین اور کاربو ہائیڈریٹس بھی موجود ہوتا ہے۔

فالسہ معدہ و جگر کو تقویت دیتا ہے اور جسم سے گرمی کا اخراج کرتا ہے۔اس پھل کے کچھ حیران کن فوائد بھی ہیں جو شاید آپ آج سے پہلے نہیں جانتے ہوں گے۔

حقیق کے مطابق فالسے اور اس کا شربت جگر کے امراض میں فائدہ مند ہے اور خاص طور پر یرقان کے مریضوں کے لیے یہ نہایت مفید ہے، جب کہ تندرست افراد کے لیے بھی روزانہ فالسے کا ایک گلاس ٹھنڈا شربت انھیں یرقان سے محفوظ رکھتا ہے۔ فالسے کا شربت صبح شام پینے سے نہ صر ف بلڈ پریشر کم ہوتا ہے بلکہ سر درد میں بھی فائدہ مند ہے۔ شدید گرمی اور لو میں فالسے کا ایک گلاس شربت پی کر سن اسٹروک سے بھی محفوظ رہا جاسکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ فالسہ کا استعمال گرمی کی شدت سے محفوظ رہنے اور پیاس بجھانے کا اہم ذریعہ ہے۔

یہ سرد تاثیر کا حامل پھل ہے جس کی وجہ سے معدے کی گرمی، سینے کی جلن، مسوڑھوں سے خون آنا، معدے کے السر اور شوگر میں کمی کرتا ہے۔

فالسہ دل کو بھی صحت مند رکھتا ہے۔

یہ اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور پھل ہے جس سے کینسر کے خطرے میں کمی کی جاسکتی ہے۔

فالسہ خون کو صاف کرتا ہے جس سے جلد بھی شفاف اور صحت مند رہتی ہے۔

فالسے کا جوس نظام ہاضمہ کے لیے بہترین ہے۔ یہ نظام ہاضمہ کے افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔

یہ جسم کو ٹھنڈک پہنچانے کے ساتھ جسم میں پانی کی کمی کو دور بھی کرتا ہے۔

شدید گرمی اور لو میں فالسے کا شربت سن اسٹروک سے محفوظ رکھتا ہے۔

فالسے کے پانی سے غرارے کرنے سے خناق کو فائدہ ہوتا ہے-

یہ صفراوی اسہال ،ہچکی اور قے کو بند کرتا ہے-

تپ دق میں فالسے کا استعمال بے حد مفید ہوتا ہے-

دل کی دھڑکن اور خاص طور پر بے چینی کو دور کرتا ہے-

ذیابیطس کیلئے فالسے کے درخت کا چھلکا پانچ تولے اور کوزہ مصری تین تولے لے کر چھلکے کو رات پانی میں بھگو دیں اور صبح مصری ملا کر مریض کو ایسی ہی خوراک پانچ روز تک پلانا بے حد مفید ہوتا ہے ۔ اس سے ذیابیطس شوگر- پر کنٹرول ہو جاتا ہے۔

فالسہ مصفیٰ خون بھی ہے-

فالسے کا شربت بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔ آدھ سیر پختہ فالسہ، ایک سیر چینی ، پہلے فالسے کو پانی میں خوب رگڑ کر چھان لیں اور چینی ملا کر قوام تیار کریں، جب قوام گاڑھا ہو جائے تو شربت تیار ہے۔ ٹھنڈا کر کے بوتلوں میں بند کر لیں۔ ،یہ شربت مقوی معدہ و دل ہوتا ہے، جگر کی حرارت کو تسکین دیتا ہے، قے ، دستوں اور پیاس کو فائدہ دیتا ہے-

جن کا معدہ بوجھل رہتا ہو طبعیت متلاتی ہو اور کھانے کی نالی میں جلن محسوس ہوتی ہو ایک پاﺅ فالسہ کا پانی نکال کر تین پاﺅ چینی ملا کر گاڑھا شربت تیار کریں یہی شربت تین بڑے چمچے ہر کھانے کے بعد چاٹنے سے بے حد فائدہ ہوتا ہے-

پھوڑے پھنسیوں پر فالسے کے پتے رگڑ کر لگانے سے فوراً فائدہ ہوتا ہے-

فالسے کو دو روز سے زیادہ بغیر فرج کے نہیں رکھا جا سکتا ،خراب ہو جاتا ہے-

تیز بخار میں فالسہ کا جوس دینے سے مریض کی تسکین ہوتی ہے-

فالسے کے بیج قابض ہوتے ہیں اور سُدَّہ پیدا کرتے ہیں-

اس کی جڑ کی چھال کا جوشاندہ بنا کر پینا جوڑوں کے درد میں بے حد مفید ہوتا ہے-

فالسے کا شربت فساد خون کو بے حد مفید ہوتا ہے-

فالسے کی جڑ کی چھال دو تولے رات کو بھگو کر صبح اس کا پانی پینے سے سینے کی جلن دور ہوتی ہے-

فالسے کا متواتر استعمال خون اور صفراء کی تیزی کو دفع کرتا ہے-

فالسے کے پتے، بیج اور رس، ان میں کسی ایک کو پانی میں رگڑ کر پینے سے گرمی دور ہوتی ہے-

فالسہ سرد مزاج والوں کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے-

سینے اور پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے، اس لئے احتیاط سے اسے استعمال کرنا چاہیے اور ضرورت سے زیادہ نہیں کھانا چاہیے۔ اگر زیادہ کھا لیا جائے تو پھر گلقند تھوڑی سی کھا لینے سے اس کے مضر اثرات نہیں ہوتے-

شربت فالسہ میں اگر عرق گلاب ڈال کر پیا جائے تو اس کے فوائد دگنے ہو جاتے ہیں-

فالسہ خشکی اور قبض پیدا کرتا ہے ۔ اگر گلقند یا معجون فلاسفہ کا ایک چمچہ چائے والا فالسے کے بعد لے لیا جائے تو پھر قابض اور خشک نہیں رہتا ۔ بہرحال فالسہ کا مقدار کے مطابق استعمال کرنا ہر صورت میں فائدہ مند رہتا ہے-

ماہرین کے مطابق ترش اور نیم پختہ فالسے کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے اس لیے ہمیشہ پکا ہوا اور میٹھا فالسہ استعمال کیا جانا چاہیئے۔