اہم ملک میں والدین پر اپنی بیٹی پر ظلم کی تمام حدود پار کرنے کا الزام۔کیا کرتے رہے جانکر ہر نارمل انسان کو غصہ آ جائے گا۔

اہم ملک میں والدین پر اپنی بیٹی پر ظلم کی تمام حدود پار کرنے کا الزام۔کیا کرتے رہے جانکر ہر نارمل انسان کو غصہ آ جائے گا۔

اہم ملک میں والدین پر اپنی بیٹی پر ظلم کی تمام حدود پار کرنے کا الزام۔کیا ... 31 مئی 2018 (15:29) 3:29 PM, May 31, 2018

دوحہ(ویب ڈیسک) قطر میں ایک عدالت نے لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے ایک امریکی جوڑے کو اپنی آٹھ سالہ متبنیٰ بیٹی کو بھوک سے مارنے کے جرم میں تین،تین سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ استغاثہ کے مطابق اس امریکی جوڑے پر اس بچی کے جسمانی اعضاء بیچنے کا الزام عاید کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوگئی تھی۔

عدالت نے جوڑے کو پندرہ ،پندرہ ہزار ریال (فی کس) جرمانہ بھی عاید کیا ہے اور انھیں قید کی مدت پوری ہونے کے بعد قطر سے بے دخل کردیا جائے گا۔عدالت کے جج نے ان کے خلاف فیصلہ سناتے ہوئے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کے خلاف کیا فرد جرم عاید کی گئی ہے۔وہ دوہفتے کے اندر اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرسکتے ہیں۔

قطر کے پبلک پراسیکیوٹر نے میتھیو اور گریس ہوانگ کو پھانسی کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن عدالت نے انھیں محض تین تین سال قید کی سزا ہی سنائی ہے اور انھیں عدالتی فیصلے کے فوری بعد گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔

میتھیو ہوانگ نے جمعرات کو اپنے خلاف فیصلے کے بعد عدالت کے باہر رپورٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ''ہمیں غلط طور پر ماخوذ کیا گیا ہے اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہمیں قطر کے عدالتی نظام نے یرغمال بنالیا ہے۔یہ غلط فیصلہ ہے اور بظاہر یہ چہرہ کے تحفظ سے زیادہ کچھ نہیں ہے''۔

متعلقہ خبریں