یورپ میں ادھیڑ عمری میں بچے پیدا کرنے کا نیا شرمناک طریقہ

یورپ میں ادھیڑ عمری میں بچے پیدا کرنے کا نیا شرمناک طریقہ

یورپ میں ادھیڑ عمری میں بچے پیدا کرنے کا نیا شرمناک طریقہ 31 جولائی 2018 (18:50) 6:50 PM, July 31, 2018

عمر کے ساتھ بیضوں کی تعداد اور ان کا معیار کم ہو جاتا ہے۔ لہذا جو خواتین 45 برس یا اس کے بعد حاملہ ہونے کی کوشش کرتی ہیں ان کی اکثریت کو ماہرین کا یہ مشورہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے کم عمر خواتین سے لیے گئے بیضوں کا استعمال کریں۔

یورپ میں فرٹیلیٹی کا علاج فراہم کرنے والے 1279 اداروں کے ایک حالیہ تجزیے سے معلوم ہوا کہ 2014ء میں بیضوں کے عطیات کے ذریعے ہونے والی پیدائشوں میں ایک تہائی اُن خواتین کے یہاں ہوئیں جن کی عمر 40 برس یا اس سے زیادہ تھی۔برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق گزشتہ برس ستّر سال کے قریب ایک بھارتی خاتون نے عطیے کے بیضوں کا استعمال کرتے ہوئے بچّے کو جنم دیا تھا۔ اس واقعے نے بڑی عمر کی خواتین کی جانب سے بچے کی پیدائش کے لیے علاج کی اخلاقیات کے حوالے سے بحث کو فروغ دیا۔انٹرنیشنل فیڈریشن آف فرٹیلیٹی سوسائٹیز کے صدر رچرڈ کینیڈی کا کہنا ہے کہ پچاس برس یا اس سے زائد عمر میں خواتین کا حاملہ ہونا کوئی ایسی بات نہیں جس کو ہر صورت سراہا جانا چاہیے۔ انہوں نے اس عمر میں حمل کے دوران درپیش امراض قلب اور دیگر طبّی مسائل کے خطرات کی جانب اشارہ کیا۔

متعلقہ خبریں