روسی بحریہ شام کے پانیوں میں بڑی جنگی مشقیں کرے گی،

روسی بحریہ شام کے پانیوں میں بڑی جنگی مشقیں کرے گی،

روسی بحریہ شام کے پانیوں میں بڑی جنگی مشقیں کرے گی، 31 اگست 2018 (14:57) 2:57 PM, August 31, 2018

 

روس بحر متوسط میں ہفتے کے روز سے ایک بڑی بحری فوجی مشق شروع کررہا ہے۔روسی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں جنگجوؤں کے ساتھ ڈیل میں ناکامی کے بعد یہ اقدام ضروری ہوگیا تھا۔

ادلب اور اس کے نواحی علاقے ہی اس وقت شامی صدر بشارالاسد کے مخالف باغی گروپوں کے قبضے میں رہ گئے ہیں۔شامی صدر روس کی حمایت سے اب اس صوبے کو بھی اپنی عمل داری میں لانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کی تیاری کررہے ہیں۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو صحافیوں سے ایک کانفرنس کال میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ اگر (ادلب میں) دہشت گرد وں کے مضبوط گڑھ کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو اس کا کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا‘‘۔

انھوں نے بحری جنگی مشقوں کے اعلان کے بعد کہا کہ ’’ شام کی صورت حال زیادہ پیچیدہ ہوسکتی ہے اور ادلب کے ارد گرد کی صورت حال بہت کچھ کا تقاضا کرتی ہے‘‘۔روس کی ان فوجی مشقوں کا مقصد مغرب کو شامی فوج پر حملوں سے روکنا ہے کیونکہ بعض ایسی اطلاعات بھی منظرعام پر آئی ہیں کہ امریکا شام پر نئے حملوں کی تیاری کررہا ہے۔

دریں اثناء روسی وزیر خارجہ ولید المعلم نے ماسکو میں روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد کہا ہےکہ ’’ ہم ادلب میں کارروائی کریں گے اور اس میں النصرہ محاذ بنیادی ہدف ہوگا‘‘۔ یہ جنگجو گروپ ماضی میں القاعدہ سے وابستہ رہا ہے۔

روسی وزارت دفاع کے مطابق سمندر میں فوجی مشقوں میں 25 جنگی بحری جہاز ، ان کے معاون جہاز اور قریباً 30 طیارے اور لڑاکا جیٹ حصہ لیں گے۔بحر متوسط میں یہ فوجی مشقیں یکم ستمبر سے آٹھ ستمبر تک جاری رہیں گی۔

ان مشقوں میں روس کے شمالی ، بالٹک اور بحیرہ اسود سے تعلق رکھنے والے فلیٹ اور کیسپیئن فلوٹیلا میں شامل جہاز حصہ لیں گے۔وہ طیارہ شکن ، آبدوز شکن اور بارودی سرنگوں کی تلفی کی مشقیں کریں گے۔ روس کا مارشل استینوف میزائل کروزر ان مشقوں کی قیادت کرے گا۔

متعلقہ خبریں