بہار ہو کہ خزاں:ایک درویش کی حق گوئ سے ناراض ہو کر بادشاہ نے متکبرانہ انداز میں اس کو جیل میں ڈال دیا-

بہار ہو کہ خزاں:ایک درویش کی حق گوئ سے ناراض ہو کر بادشاہ نے متکبرانہ انداز میں اس کو جیل میں ڈال دیا-

بہار ہو کہ خزاں:ایک درویش کی حق گوئ سے ناراض ہو کر بادشاہ نے متکبرانہ انداز ... 30 مئی 2018 (23:27) 11:27 PM, May 30, 2018

ایک درویش کی حق گوئ سے ناراض ہو کر بادشاہ نے متکبرانہ انداز میں اس کو جیل میں ڈال دیا-وزراُ میں سے کسی نے درویش سے کہا کہ بادشاہ کو بھرے دربار میں اسطرح نصیحت کرنا مناسب نہ تھادرویش نے کہا کہ حق گوئ کو عبادت سمجھتا ہوں اور مجھے قید خانےکی کوئ پرواہ نہیں یہ تو چند لمحوں کی بات ہےبادشاہ کو درویش کی وزیر سے گفتگو کا پتہ چلا تو اس نے پیغام بھجوایا کہ چند لمحے نہیں ساری زندگی کے لیےجیل میں رہنا پڑےگادرویش نے واپسی جواب دیا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ دنیا ہے ہی ایک گھڑی درویش کے لیے خوشی اورغمی  برابر ہےالحمدللّٰہ علی کل حال -

تو لشکر اور خزانوں میں خوش تو میں رنج اور محرومی میں بھی اپنے رب سے خوش ہوں جب ہم دونوں کو موت آےُ گی تو چند دنوں میں کوئ نہ پہچان سکے گا کہ کون درویش ہےاور کون​ بادشاہ -ظالم باشاہ کو ان ناصحانہ باتوں پر اورغصہ آیا اوردرویش کی زبان کھینچ لینے کا حکم دیادرویش نے جواب دیا کہ مجھے اس سے بھی  کوئ فرق نہیں پڑتا کہ میرا اللّٰہ میری زبان کے بغيربھی جانتا ہے کہ میں کیا کہنا چاہتاہوں میں ظلم برداشت کروں گا جو میری آخرت بہتر کرے گا اور مجھے جنت میں لے جائیگا -