اسرائیل کا فلسطین پر بڑا حملہ۔ردعمل میں فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کا دبنگ اعلان

اسرائیل کا فلسطین پر بڑا حملہ۔ردعمل میں فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کا دبنگ اعلان

اسرائیل کا فلسطین پر بڑا حملہ۔ردعمل میں فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد کا دبنگ ... 30 مئی 2018 (15:46) 3:46 PM, May 30, 2018

غزہ (ویب ڈیسک)گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران غزہ پٹی سے جنوبی اسرائیل کی جانب 100 کے قریب راکٹ داغے گئے ۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ مذکورہ حملوں کے بعد غزہ کی پٹی میں اسرائیلی افواج سے لڑنے والے گروہوں حماس اور اسلامی جہاد کے اہداف پر فضائی حملے کیے گئے، حملوں میں سرحدی سرنگ کو بھی نشانہ بنایا گیا جو مجاہدین کے زیر استعمال تھی۔

اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا کہ ان کے آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم نے آنے والے 25 میزائلوں کو روکا، یہ غزہ کی پٹی سے اسرائیلی پر سب سے بڑا حملہ تھا۔

دوسری جانب فلسطینی تنظیم اسلامی جہاد نے منگل کے روز اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ فائر بندی ہو گئی ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ فلسطینی گروپس 2014ء کے معاہدے کے مطابق غزہ میں پرسکون رہیں گے بشرط یہ کہ اسرائیل بھی ایسا ہی کرے۔ اسلامی جہاد کے ترجمان داؤد شہاب نے بتایا کہ ان کی تنظیم اور حماس کے ساتھ مصری رابطوں کی روشنی میں سال 2014 کی فائر بندی کی مفاہمت کو مضبوط بنانے پر موافقت طے پا گئی ہے۔یاد رہے کہ 2014ء میں بھی مصر نے فائر بندی کے لیے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا جس نے اسرائیل اور فلسطینی گروپوں کے درمیان سات ہفتوں سے جاری جنگ کو اختتام تک پہنچا دیا۔

حماس کے سیاسی بیورو کے رکن خلیل الحیا نے ایک بیان میں کہا کہ منگل کے روز زبردست مقابلے کے بعد آخر کار مصالحتی کوششیں نظر آنے لگی ہیں، امید ہے کہ جلد ہم غزہ کی پٹی پر سیز فائر کی مفاہمت کی طرف لوٹ سکیں گے۔

حماس کے نمائندے کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے آگے مزاحمت کرنے والے دونوں گروہ یعنی حماس اور اسلامی جہاد سیز فائر کے لیے مخلص ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ قابض اسرائیل بھی سیز فائر کرے تاہم اسرائیل کی طرف سے اس پر کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

اسلامی جہاد کا کہنا ہے کہ اگر جارحیت کا سلسلہ جاری رکھاگیا تو وہ اسرائیل کو نشانہ بنانے کی قدرت رکھتی ہے۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ایجنسی نے ایک اسرائیلی ذمّے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں فائر بندی سے متعلق خبر درست نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں