سعودی عرب کا خواتین کی عزت و توقیر کے حق میں اہم قدم۔

سعودی عرب کا خواتین کی عزت و توقیر کے حق میں اہم قدم۔

سعودی عرب کا خواتین کی عزت و توقیر کے حق میں اہم قدم۔ 30 مئی 2018 (12:53) 12:53 PM, May 30, 2018

جدہ: سعودی عرب میں مجلس شوری (پارلیمنٹ) نےہراسگی کو روکنے کے قانون سے متعلق قرارداد کی منظوری دے دی ہے۔ قانون کا منصوبہ وزارت داخلہ نے شاہی فرمان پر تیار کیا تھا۔

یہ قانون 8 شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد ہراسیت کے جرم کا انسداد، اس کے مرتکب افراد پر سزا کا نفاذ، جرم کا شکار ہونے والے کا تحفظ اور اس کی عزت و توقیر اور شخصی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔

قانون کے تحت ہراسیت کے جرم کے ارتکاب پر ملنے والی سزا دو سال جیل اور ایک لاکھ ریال جرمانہ یا دونوں میں کوئی ایک ہو سکتی ہے۔ قید کی سزا زیادہ سے زیادہ پانچ برس تک بڑھائی جا سکتی ہے اور جرمانے کی رقم تین لاکھ ریال سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔

اس کے علاوہ ہراسیت پر اکسانے ، اس پر متفق ہونے یا کسی بھی صورت میں ارتکاب میں مدد کرنے پر بھی مقررہ سزا کا نفاذ ہو گا۔

ہراسیت کے کسی بھی ارتکاب سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے کی شناخت کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھا جائے گا اور اس کا شکار ہونے والے کی شناخت کسی بھی صورت میں ظاہر نہیں کی جائے گی سوائے اُس وقت جب کہ تحقیق یا عدالتی کارروائی میں اس کی ضرورت پیش آئے۔

متعلقہ خبریں