لوڈشینگ کے مسئلے پر شاہد خاقان عباسی کی مثال

لوڈشینگ کے مسئلے پر شاہد خاقان عباسی کی مثال"زلیخا مرد تھی یا عورت"۔

لوڈشینگ کے مسئلے پر شاہد خاقان عباسی کی مثال"زلیخا مرد تھی یا عورت"۔ 30 مئی 2018 (11:26) 11:26 AM, May 30, 2018

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے ملک میں لوڈشیڈنگ کے متعلق پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ :" ہم دو پیریڈ بنائے ہیں رات بارہ سے صبح چار تک سحری کا پیریڈ ہے اور شام چھ سے رات دس بجے تک کا پیریڈ ہے -یہ دو پیریڈ دس گھنٹے کے بنتے ہیں - اس میں اس وقت جو کیفیت ہے نوے فیصد جو کنزیومرز ہیں پاکستان میں ان پر کوئی لوڈ شیڈنگ نہیں ہے -"اس کے بعد ایک صحافی کے سوال پر کہ آپ نے 2013 میں جو دعوے کیے تھے - کہ لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا جو کہ کسی طرح بھی نہ ہو سکا -اور لوڈشینگ بدستور موجود ہے اس سوال پر وزیر اعظم صاحب نے یوں جواب دیا کہ :" زلیخا مرد تھی یا عورت -میرے بھائی ابھی آپ کو میں نے یہ بات آپ کو سمجھائی ہے -"ایک صحافی کے سوال پر توانائی بحران ختم کرنے کا جو حکومتی دعویٰ ہے وہ بلکل غلط ہے اس کو آپ کیسے دیکھتے ہیں -اس سوال کے جواب میں شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ :"ابھی کوئی تقریر کی اس وہ مجھےبھول گئی ہے -" ایک صحافی نے وزیر اعظم سے سوال کیا کہ آپ بجلی کے ریٹس کے ریشنلائزیشن کے فگر ہیں وہ بعد میں دیں گے یا ابھی - اس سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ " بجلی کے ریٹس دینا پیمرا کا کام ہے میرا نہیں -"

وزیر اعظم کے اس جواب پر صحافی غصے میں آگئے اور کہا کہ سر آپ اپنی مدت کے ساتھ جا رہے ہیں ہم نہیں آپ کو بھجوا رہے ابھی آپ نے دوسرے صحافی کے ساتھ بھی عجیب سی گفتگو کی ہے -تو وزیر اعظم نے کہا کہ :"میں ان سے بھی معذرت کرتا ہوں اور آپ سے بھی -آپ ابھی اپنے لیکچر بعد میں دے لیجیے گا ابھی سوال کریں -" وزیر اعظم کے جواب پر اسی صحافی نے یہ سوال دوبارہ کیا کہ بجلی کی پیداوار بڑھانے کے ساتھ ساتھ آپ نے اس کے ریٹس میں بھی کمی کا دعویٰ کیا تھا اس میں آپ کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں -اس سوال کے جواب میں وزیر اعظم نے دوابارہ کہا کہ :"آپ اس کے لیے پیمرا کی ویب سائٹ دیکھ لیں اس پر بجلی کے ریٹس دیے ہوئے ہیں -"

متعلقہ خبریں