فاٹا کا انضمام اسمبلی نے کیا نہیں اس سے کروا یا گیا ہے۔ یہ کام پارلیمنٹ کی گردن مروڑنے والی قوت نے کروا یا ہے۔مولانا فضل الرحمان کافاٹا انضمام بل پاس ھونے پر غصہ نہ گیا۔

فاٹا کا انضمام اسمبلی نے کیا نہیں اس سے کروا یا گیا ہے۔ یہ کام پارلیمنٹ کی گردن مروڑنے والی قوت نے کروا یا ہے۔مولانا فضل الرحمان کافاٹا انضمام بل پاس ھونے پر غصہ نہ گیا۔

فاٹا کا انضمام اسمبلی نے کیا نہیں اس سے کروا یا گیا ہے۔ یہ کام پارلیمنٹ کی ... 30 مئی 2018 (04:04) 4:04 AM, May 30, 2018

اسلام آباد : جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فاٹا کا موجودہ پارلیمنٹ کے ذریعے خیبرپختونخوا میں انضمام پر میری نظر میں پوری پارلیمنٹ نے اجتماعي خود کشی کا فیصلہ کیا ہے۔ فاٹا کا انضمام اسمبلی نے کیا نہیں اس سے کروا یا گیا ہے۔ یہ کام پارلیمنٹ کی گردن مروڑنے والی قوت نے کروا یا ہے۔ ہم کشمیریوں کے لیے حق مانگتے ہیں لیکن اپنے لوگوں کو حق نہیں دے سکتے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر سيفران عبد القادر بلوچ میرے گھر آئے اور یقین دہانی کرائی کہ فاٹا کا خیبرپختونخوا میں انضمام نہیں کیا جائے گا جب کہ رواج ایکٹ ختم کرنے کا بھی کہا گیا۔ تاہم تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود فاٹا کا انضمام کردیا گیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مقامی لوگوں کے تحفظات دور کیے بغیر بل کو پاس کیا گیا۔ فاٹا میں ایف سی آر کا قانون تو ختم ہو گیا لیکن نیا نظام اس کی جگہ نہیں آیا جس سے بہت بڑا خلا پیدا ہوگیا ہے۔ عوام اتنے سادہ نہیں ہیں جو ان چیزوں کا نہیں سمجھتے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے کہا کہ فاٹا کے معاملے پر جو رویہ اختیار کیا گیا اس نے پاکستان کے مستقبل پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔ وزیراعظم کی موجودگی میں جنرل باجوہ سے کہا کہ افغانستان کی طرف سے مشکل آ سکتی ہے اور ایسا ہی ہوا کہ فاٹا کے انضمام پر افغانستان کا 24 گھنٹے میں رد عمل آیا۔ تاہم حکومت اور اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے خدشات پر توجہ نہیں دی۔ ہم ابھی مشرقی تنازعات سے نکلے نہیں اور مغربی تنازعات کو دعوت دے دی گئی۔

متعلقہ خبریں