پلزپارٹی اورمسلم لیگ ق نے انتحابی نشانوں میں ترقی کر لی۔تیر اور سائیکل نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس دفعہ ۔۔۔۔۔۔۔نئے نشان آگئے۔

پلزپارٹی اورمسلم لیگ ق نے انتحابی نشانوں میں ترقی کر لی۔تیر اور سائیکل نہیں بلکہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس دفعہ ۔۔۔۔۔۔۔نئے نشان آگئے۔

پلزپارٹی اورمسلم لیگ ق نے انتحابی نشانوں میں ترقی کر لی۔تیر اور سائیکل نہیں ... 29 مئی 2018 (16:04) 4:04 PM, May 29, 2018

اسلام آباد:عام انتخابات کیلئے پیپلزپارٹی کوتلوارکا انتخابی نشان الاٹ کردیا گیا۔ الیکشن کمیشن نےعام انتخابات کیلئے پیپلزپارٹی سمیت دیگر جماعتوں کی جانب سے تلوارکا انتخابی نشان لینے کی درخواستوں پرفیصلہ سنا دیا۔ پی پی وکیل نے کہا کہ تلوار کا نشان لینا پیپلز پارٹی کا حق ہے۔

تلوارکےنشان کی الاٹمنٹ سے متعلق کیس کی سماعت میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نیربخاری نے دلائل میں کہا کہ پیپلزپارٹی 1967 میں وجود میں آئی اور5 جولائی 1970 کا الیکشن اسی تلوارکے نشان پر ہوا۔

پی پی وکیل نے کہا کہ 1977 کےمارشل لا میں تلوارکو انتخابی نشان سےنکال دیا گیا۔ 1985 سےتلوارکا نشان الیکشن کمیشن کی لسٹ میں نہیں تھا۔ ذوالفقاربھٹوکی تلوارکےنشان کی نسبت سے یہ نشان پیپلزپارٹی کا حق ہے۔

چیف الیکشن کمشن کی سربراہی میں سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی نشانات کے اعتراضات اور الاٹ منٹ پر سماعت کی گئی، تیر کے انتخابی نشان کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی، پیپلزپارٹی شہید بھٹو، پیپلزپارٹی ورکرز نے بھی تلوار کے انتخابی نشان کے لیے الیکشن کمشن کو درخواست دے رکھی تھی۔

پاکستان پیپلزپارٹی کو تلوار کا انتخابی نشان مل گیا تاہم پپیلزپارٹی پارلیمنٹرین تیر کے نشان پر ہی انتخاب لڑے گی۔

الیکشن کمیشن میں صفدر عباسی نے انتخابی نشان تلوار کیلئے درخواست جمع کرا رکھی تھی جبکہ پیپلزپارٹی کا موقف تھا کہ بانی پی پی ذوالفقار علی بھٹو نے تلوار کے انتخابی نشان پر الیکشن لڑا تھااس لئے یہ نشان کسی اور کو الاٹ نہیں ہونے دینگے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے تیر کی بجائے تلوار جبکہ مسلم لیگ ق نے سائیکل کی بجائے ٹریکٹر کو انتخابی نشان بنانے کی درخواست کی تھی جس پر ایکشن کمیشن نے دونوں جماعتوں کو ان کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے انہیں تلوار اور ٹریکٹر کے نشانات الاٹ کر دیے ۔یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے 1970اور 1977 کے عام انتخابات میں تلوار کے نشان سے الیکشن لڑے تھے ۔

متعلقہ خبریں