پر وین شا کر: عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم ......شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا

پر وین شا کر: عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم ......شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا

پر وین شا کر: عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم ......شہر کی سوچ میں ہو اور اسے ... 29 مئی 2018 (15:35) 3:35 PM, May 29, 2018

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا

واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت

اس سے کیا ملیے جو ہر روز کہے کل ملنا

عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم

شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا

اس کا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے

دشت امید میں اندیشے کا بادل ملنا

دامن شب کو اگر چاک بھی کر لیں تو کہاں

نور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا

متعلقہ خبریں