سعودی عرب کی 14 سالہ طالبہ نابینا افرادکیلئے مسیحا بن گئی ۔اہم چیز ایجاد کرکے امت مسلمہ کا نام روشن کر دیا

سعودی عرب کی 14 سالہ طالبہ نابینا افرادکیلئے مسیحا بن گئی ۔اہم چیز ایجاد کرکے امت مسلمہ کا نام روشن کر دیا

سعودی عرب کی 14 سالہ طالبہ نابینا افرادکیلئے مسیحا بن گئی ۔اہم چیز ایجاد کرکے ... 29 مئی 2018 (11:19) 11:19 AM, May 29, 2018

سعودی عرب کے شہر ظہران میں سیکنڈری اسکول کی ایک 14 سالہ طالبہ نے ایک نئی زبان ایجاد کی ہے جو نابینا اور بصری معذوری کا شکار افراد کے لیے مطالعے میں مددگار ثابت ہو گی اور ان افراد کے دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطے کو آسان بنا دے گی۔

سعودی طالبہ "تالہ ابو النجا" کی اسکول میں ایک نابینا لڑکی سے ملاقات ہوئی تھی جس کو "بریل" میں پڑھتے ہوئے دشواری کا سامنا ہوتا تھا۔ اس کے بعد تالہ نے اپنی تحقیقی سرگرمیوں کو بڑھا دیا اور اس دنیا کے نئے رموز و اسرار سے آشنا ہوئی۔

تالہ کے نزدیک بریل میں درپیش دشواری صرف اس کی اسکول کی دوست کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پوری دنیا میں بصارت سے محروم افراد کا مسئلہ ہے۔

تالہ کے نزدیک یہ ضروری نہیں کہ بصارت سے محروم شخص الفاظ کو اسی طریقے سے سمجھے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ تالہ کے تخلیقی جدّت کے حامل کام نے نابینا افراد کے لیے عربی کے حروف کا ادراک حاصل کرنا آسان بنا دیا ہے۔ اس ایجاد کو استعمال کر کے معذور افراد کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو گا اور وہ نفسیاتی اور سماجی طور پر خود کو زیادہ بہتر محسوس کریں گے۔

متعلقہ خبریں