پنجاب کی نگران حکومت نے سابق وزیر اعطم نواز شریف کو طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے فوری طور پر پمز میں منتقل کرنے کا فیصلہ

پنجاب کی نگران حکومت نے سابق وزیر اعطم نواز شریف کو طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے فوری طور پر پمز میں منتقل کرنے کا فیصلہ

پنجاب کی نگران حکومت نے سابق وزیر اعطم نواز شریف کو طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے ... 29 جولائی 2018 (17:28) 5:28 PM, July 29, 2018

پنجاب کی نگران حکومت نے سابق وزیر اعطم نواز شریف کو طبعیت کی ناسازی کی وجہ سے فوری طور پر اسلام آباد کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال 'پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز' ( پمز ) میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کی سابق حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ( نواز ) کے بعض رہنما نواز شریف کی طبعیت کی ناسازی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جیل میں مناسب طی سہولتوں کے فقدان پر تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

شوکت جاوید نے کہا کہ نواز شریف کو جیل مینوئل کے مطابق تمام سہولیتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔" انہیں (جیل میں) بہترین طبی سہولیات فراہم کی جارہی ہیں اور ان کا ہر روز طبی معائنہ ہوتا ہے اور روز ماہر امراض قلب ان کا معائنہ کرتا ہے اور جب ڈاکٹروں نے کہا کہ انہیں اسپتال منتقل کرنا ضروری ہے تو حکومت نے انہیں فوری طور اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کی ہے"۔ سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کی طرف سے پنجاب حکومت کی طرف سے جیل منتقل کرنے کے فیصلے پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔تاہم رواں ماہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف پاکستان کے نگران وزیر اعظم ناصر الملک اورپنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ حسن عسکری کے نام لکھے گئے خط کے ذریعے اپنے لیڈر نواز شریف کے لیے جیل میں سہولیات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ نوازشریف کو دل کا عارضہ ہے اس لیے ان کے ذاتی معالج کو تواتر کے ساتھ طبی معائنے کی اجازت دی جائے۔

متعلقہ خبریں