پاکستان کو توڑنے کی سازش کون کر رہا ہے۔ففتھ جنریشن وار کس نے شروع کی ہوئی ہے۔اگر پاکستان کا ایک ٹکڑا ہو گا تو انڈیا پچاس ٹکڑے ہو گا۔پڑھئے اہم حقائق

پاکستان کو توڑنے کی سازش کون کر رہا ہے۔ففتھ جنریشن وار کس نے شروع کی ہوئی ہے۔اگر پاکستان کا ایک ٹکڑا ہو گا تو انڈیا پچاس ٹکڑے ہو گا۔پڑھئے اہم حقائق

پاکستان کو توڑنے کی سازش کون کر رہا ہے۔ففتھ جنریشن وار کس نے شروع کی ہوئی ... 28 مئی 2018 (20:37) 8:37 PM, May 28, 2018

اوریا مقبول جان کا کہنا ہے کہ :"جب سے پاکستان بنا ہے -تب سے دو تین گروہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں جن میں ایک انڈیا ہے -وہ کبھی پنڈتوں اور کبھی دعسرے زریعوں سے ایسا کرتا ہے -اور دوسرا پاکستان کا سیکولر اور لبدل طبقہ -کیونکہ پاکستان دنیا کے بیس بائیس ملکوں کی کمیٹی میں ایک ایسا ملک ہے جو بالکل علیحدہ ہے - یہ اللّٰہ کے نام پر بنا ہے - افغانستان ہے - ایکونومیکلی بالکل خراب ملک ہے -اس میں بجلی نہیں ہے -پانی نہیں ہے -ریلوے نہیں ہے -جہاز نہیں ہے -افغانستان میں کوئی کھڑا ہو کے یہ نہیں کہتا کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا انگولہ میں ساٹھ سال ج گ ہوتی رہی کسی نے نہیں کہا یہ ملک ٹوٹ جائے گا -ویت نام جیسی جگہ پہ امریکہ حملہ آور ہوا کسی نے نہیں کہا یہ ملک ٹوٹ جائے گا -امریکہ نے پوری کوشش کی عراق کو توڑنے کی -کردوں کی لڑائی تھی صدام کے ساتھ , صدام کی لڑائی تھی شیعوں کے ساتھ ,کسی نے نہیں کہا کہ یہ ملک ٹوٹ جائے گا -جنرل باجوہ کا جو دورہ ہے وہ ایک پیغام کے ساتھ ہے اور وہ پیغام یہ ہے کہ امریکہ کی گورنمنٹ نے امریکہ کی یو ایس سیکیورٹی سٹریٹجی پیش کی جو کہ 68 صفحوں کی ہے -اس کے دسویں صفحے پہ یہ لکھا ہے کہ کس طرح ہم نے اپنے خلاف دہشتگردی کو ختم کرنا ہے اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں اس میں چار پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ جس میں انہوں نے پاکستان کو ہدف بنانے کی کوشش کی ہے -گزشتہ ایک سال سے پاکستان نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ آپ گزشتہ ایک سال سے یہ سارے کا سارا ایجنڈا اس لیے یہاں لے کے آئے ہو کہ آپ انڈیا کو یہاں جگہ دے کے جاؤ-اب پاکستان کی دشمنی کا انڈیا میں یہ لیول ہے -اور دعویٰ کرتے ہیں دوستی کا - یہاں سے خورشید قصوری صاحب وہاں جاتے ہیں اور وہاں جا کے دو تین لوگوں اور پاکستان کے وزیر خارجہ کے ساتھ کھانا کھاتے ہیں اور نریندر مودی صاحب یہ الزام لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ انڈیا میں مودی کو ہرانے کے لیے آئے ہیں -اور کانگریس تو ہے جی انڈیا کی ایجنٹ اور اس پر دوسری طرف راہول گاندھی نے یہ کہا -اور اس طرح یہ ایک دوسرے کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کی گالی دے کر الیکشن لڑتے ہیں -اس کے بعد جو راحیل شریف ک ریجنل دورے تھے بڑے اہم تھے -خاص طور پر عراق کا دورہ -وہاں پر جو بندرگاہ بن رہی ہے اس کے بننے سے افغانستان جو پاکستان کی کراچی کی بندرگاہ پر انحصار کرتا ہے وہ ختم ہو جائے گا -سور دوسری طرف پہلے پاکستان افغانستان کو گندم بیچتا تھا پچھلے سال انڈیا اپنی گندم لے گیا ہے افغانستان -یہ ساری کہ افغانستان اور پاکستان کی لڑائی ہو جائے -ابھی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وزیرستان ابھی ٹارگٹ بنا ہوا ہے - سلیگ ہیریسن وہ شخص ہے جو ہے جی انڈیا کی ایجنٹ اور اس پر دوسری طرف راہول گاندھی نے یہ کہا -اور اس طرح یہ ایک دوسرے کو پاکستان کا ایجنٹ ہونے کی گالی دے کر الیکشن لڑتے ہیں -اس کے بعد جو راحیل شریف ک ریجنل دورے تھے بڑے اہم تھے -خاص طور پر عراق کا دورہ -وہاں پر جو بندرگاہ بن رہی ہے اس کے بننے سے افغانستان جو پاکستان کی کراچی کی بندرگاہ پر انحصار کرتا ہے وہ ختم ہو جائے گا -سور دوسری طرف پہلے پاکستان افغانستان کو گندم بیچتا تھا پچھلے سال انڈیا اپنی گندم لے گیا ہے افغانستان -اب وزیرستان دشمنوں کا ٹارگٹ بنا ہوا ہے یہ - سلیگ ہیریسن 74 -1973 میں پاکستان آیا تھا بلوچستان میں رہا تھا اور ایک کتاب لکھی تھی "دا شیڈو آف پاکستان "اور کہا کہ بلوچستان پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا اب -

اب جو صورتحال یہ ہے کہ یہ پورے کا پورا جو علاقہ ہے -اس علاقے میں گھسیں گے -قبضہ کریں گے -اور پھر جو قبائلی ہیں ان کو پختونوں کے ساتھ کر دیں گے - اس طرح امریکہ بھارت کے ساتھ مل کے پاکستان جو توڑنا چاہتا ہے -اب پورا پاکستان ایک ساتھ ہے -کہ یہ چلیں جائیں کے پی کے میں اور ان کی آمدورفت شروع ہو اور ان کا تھوڑا یونیٹی کا احساس ہو -اب صرف دو لوگ اس کے خلاف ہیں ایک محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمٰن -آرمی چیف نے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ملاقات بھی کی تھی ہمیں سیکیورٹی تھریڈز ہیں ہم نے وہاں سے جن لوگوں کو نکالا ہے -وہ افغانستان میں بیٹھے ہوئے ہیں کل کو اگر خدا ناخواستہ کوئی بلڈ اپ ہو -وہ یہاں آکے بیٹھ جائیں گے اور ہمارے سر پہ بیٹھیں گے -اس سلِگ ہیریسن نے ڈیورنڈ لائن کا پرانا مسئلہ چھیڑا ہے -جمعہ خان نے کہا تھا کہ ڈیورنڈ لائن انٹرنیشنل لیول پر ختم ہو چکی ہے -اسے انگریزوں نے دوبارہ ابھارا ہے -میں انڈیا گیا تھا تو میں نے انہیں کہا تھا کہ اگر پاکستان کا ایک ٹکڑا ہو گا تو انڈیا پچاس ٹکڑے ہو گا - انڈیا پاکستان کو ٹوٹا ہوا نہیں انڈیا پاکستان کو تباہ حال دیکھنا چاہتا ہے - انڈیا پاکستان کے ٹکڑے نہیں کرنا چاہتا -امریکہ پاکستان کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے - کیونکہ یہاں سے سی پیک کی لائن گزرتی ہے - اسی لیے تو انہوں نے کشمیریوں کو آزاد کرنے کو کہا ہے اسی لیے تو انہوں نے بلوچوں کو آذاد کرنے کو کہا ہے -مسئلہ اکانومی کا ہے اسی لیے تو امریکہ پاکستان کے ٹکڑے کرنا چاہتا ہے - اسی لیے اسرائیل بھی ایسا ہی چاہتا ہے -یاد رکھیں اسرائیل نے نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث پڑی ہوئیں ہیں - نبی اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :'برگد کا درخت جو ہے وہ یہودیوں کا درخت ہے وہ یہودیوں کو پناہ دے گا -'انہوں نے سارے برگد کے درخت لگائے ہوئے ہیں -خراسان سے جھنڈے اٹھیں گے اور ایلیا میں گاڑ د یے جائیں گے -اسی لیے تو افغانستان اور پاکستان کی نیوکلیئر فورسز کو توڑنا چاہتے ہیں -یہ ایک پلاٹ ہے - جب تک فاٹا والی قراداد نہیں آجاتی - پاکستان کو سب سے زیادہ خطہرہ ان کے سیاستدانوں سے ہے - قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ ہم جمہوریت کے ساتھ ہیں - آج جو سیاستدان استعفیٰ دیتا ہے کہتا ہے مجھے فون آیا تھا میں نے استعفیٰ دیا ہے -شرم آنی چاہیے تمہیں تم اس قابل ہی نہیں ہو کہ حکومت کر سکو -تم سے دہشت گرد بہتر ہیں جو فون پہ اپنا کام تو نہیں چھوڑتے "

متعلقہ خبریں