پاکستانی تو ویسے بدنام ھیں اصل توہم پرست تو گورے ہیں۔پڑھئے امریکہ میں موجود جوتا درختوں کی کہا نی۔

پاکستانی تو ویسے بدنام ھیں اصل توہم پرست تو گورے ہیں۔پڑھئے امریکہ میں موجود جوتا درختوں کی کہا نی۔

پاکستانی تو ویسے بدنام ھیں اصل توہم پرست تو گورے ہیں۔پڑھئے امریکہ میں موجود ... 28 مئی 2018 (17:25) 5:25 PM, May 28, 2018

اردو دنیا (ویب ڈیسک )

یہ عجوبہ اصل میں لبِ سڑک واقع دلکشی کے ایک بڑے سلسلے کی کڑی ہے کیونکہ مشی گن کی بلڈنگ میں زہم روڈ پرجوتوں کا جو درخت ہے ویسے درختوں کا نظا رہ پورے ملک میں کیا جا سکتا ہے۔صرف مشی گن میں ایسے 10سے زائد جوتادرختوں کا اندراج ہے۔پورے ملک میں ایسے بہت سے جوتادرختوں کا وجود ہے جن کے بارے میں وقتاً فوقتاً خبر ملتی رہتی ہے۔ دراصل کساد بازاری کے زمانے میں ایک لڑکے کے پاس جوتے خریدنے کے پیسے نہیں تھے ۔ ٹھنڈ کی زیادتی کی وجہ سے اس کے پاؤں ماؤف ہونے لگے۔

اس کیفیت سے پریشان لڑکے نے درخت کو برا بھلا کہنا شروع کیا کہ وہ جوتے نہیں اگاتا۔ دلچسپ بات ہے کہ لڑکے کی موت کی پہلی برسی پر ایک جوڑا جوتا اس درخت کی شاخو ں پر لٹکاہوادیکھا گیا۔اسی طرح نواڈامیں بھی ایک جوتا درخت تھا جسے بعد میں کاٹ ڈالا گیا۔ اس درخت کے ساتھ بھی ایک کہانی وابستہ ہے کہ اس کے نیچے ایک نو بیاہتا جوڑے کی لڑائی ہو گئی۔ بیوی نے دھمکی دی کی وہ شوہراوراس کی کار کو چھوڑ کر وہاں سے چلی جائے گی۔شوہر نے بیوی کے تیور دیکھے توبڑی چابکدستی سے اس کے جوتے اتارے اور درخت کی شاخوں کی طرف اچھال دئے۔جوتے وہیں اٹک گئے۔اس واقعہ کے برسوں بعدجب دونوں کا رویہ تبدیل ہوا اور ان کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا تو دونوں میاں بیوی اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ درخت کے نیچے آئے اور اس بچے کے جوتے کے جوڑے کو درخت کی جانب پھینکا

متعلقہ خبریں