سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی اجازت ملنے کے بعد کریم اور اُوبر کی سواریاں بھی خواتین اٹھائیں گی۔

سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی اجازت ملنے کے بعد کریم اور اُوبر کی سواریاں بھی خواتین اٹھائیں گی۔

سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی اجازت ملنے کے بعد کریم اور اُوبر کی ... 28 جون 2018 (21:59) 9:59 PM, June 28, 2018

سعودی عرب میں خواتین کو کار چلانے کی اجازت ملنے کے بعد مقبول ٹیکسی سروس ایپلی کیشن کریم اور اُوبر کی کپتانوں نے بھی سواریوں کو ان کی جائے منزل پر پہنچانے کے لیے خدمات مہیا کرنا شروع کردیا ہے۔

امل فرحت کو کریم کی پہلی خاتون کپتان ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔وہ صحتِ عامہ میں کوالٹی ایشورینس کی ڈگری کی حامل ہیں اور صحت کے شعبے میں معیار کو برقرار رکھنے سے متعلق ایک مشاورتی کمپنی چلا رہی ہیں۔

اس مصروفیت کے باوجود انھوں نے کریم کے لیے ڈرائیور کے طور پر کام کا انتخاب کیا ہے اور وہ دنیا کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ سعودی خواتین کسی بھی شعبے میں کام کی صلاحیت کی حامل ہیں ۔

انھوں نے اپنے تجربے کے بارے میں بتایا کہ ’’ خواتین ان کے ساتھ سفر میں خود کو محفوظ سمجھتی ہیں کیونکہ انھیں مرد ڈرائیوروں کے ساتھ سفر کی صورت میں جو مسائل درپیش ہوسکتے ہیں، انھیں میں بخوبی سمجھتی ہوں ۔مجھے کریم کے ٹرینروں نے بتایا تھا کہ ڈرائیوروں کو ہراساں کیا جاسکتا ہے۔مجھے کمپنی کی طرف سے اس ضمن میں بہت معاونت حاصل ہوئی ہے۔اگر کوئی مسافر نامناسب حرکت کرتاہے تو اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک پروٹوکول ہے‘‘۔

کریم کے مقابلے میں ٹیکسی خدمات پیش کرنے والی کمپنی اُوبر کے لیے اخلاص البلوشی نامی ایک خاتون نے بہ طور ڈرائیور اپنے نام کا اندراج کرایا ہے اور انھوں نے منگل کو ایک مسافر خاتون کو اس کی جائے منزل پر پہنچا تھا اور یوں اپنا پہلا سفر مکمل کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ کمپنی نے اپریل میں خواتین ڈرائیوروں کو بھرتی کرنے کا ا علان کیا تھا اور انھوں نے اسی وقت درخواست دائر کردی تھی۔اُوبر نے 20 سال سے زاید عمر اورکارآمد ڈرائیونگ لائسنس کی حامل سعودی خواتین سے درخواستیں طلب کی تھیں ۔ نیز ان کی کار کی انشورنس ہونی چاہیے۔

ضرور پڑھیں:اٹھارہ سال سے کم افراد اب دبئی کو بھول جائیں اہم خبر آ گئی

متعلقہ خبریں