صدر ایوب خان پاکستان کے صدر تھے . ان دنوں جنرل ایوب کو بھارت کے ایک مشاعرے میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا . جب مشاعرہ شروع ہوا تو ایک شاعر۔۔۔۔۔۔۔ صدر ایوب خان اور ساغر صدیقی کے درمیان ھونے والا دلچسپ مکالمہ

صدر ایوب خان پاکستان کے صدر تھے . ان دنوں جنرل ایوب کو بھارت کے ایک مشاعرے میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا . جب مشاعرہ شروع ہوا تو ایک شاعر۔۔۔۔۔۔۔ صدر ایوب خان اور ساغر صدیقی کے درمیان ھونے والا دلچسپ مکالمہ

صدر ایوب خان پاکستان کے صدر تھے . ان دنوں جنرل ایوب کو بھارت کے ایک مشاعرے ... 28 جون 2018 (21:16) 9:16 PM, June 28, 2018

صدر ایوب خان پاکستان کے صدر تھے . ان دنوں جنرل ایوب کو بھارت کے ایک مشاعرے میں بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا . جب مشاعرہ شروع ہوا تو ایک شاعر نے درد بھری آواز میں غزل سے اپنی شاعری کا آغاز کیا . جب وہ شاعر شاعری کرکے فارغ ہوا تو جنرل صاحب نے اس کی شاعری کی تعریف کی اور کہا یہ غزل مجھے بہت پسند آئی ہے یقیناً کسی نے خون کے آنسوؤں سے لکھی ہے . وہاں موجود ایک شاعر نے کہا جناب اس سے بڑی خوشخبری کی کیا بات ہو گی اس غزل کا خالق پاکستان کا ہے . جب آپ نے یہ بات سنی تو آپ حیران رہے گئے کہ اتنا بڑا ہیرہ پاکستان میں ہے اور انکو خبر ہی نہیں .جب آپ نے شاعر کا نام پوچھا تو کہا جناب اسکا نام ساغر صدیقی ہے .

جب جنرل ایوب پاکستان واپس آئے تو ساغر صدیقی کا پتہ کیا تو کسی نےکہا جناب وہ لاہور رہتے ہیں. آپ نے ایک وفد کو تحائف کیساتھ لاہور بھیجا اور ان سے کہا کہ ساغر صدیقی کو بڑی عزت و تکریم کیساتھ میرے پاس لاؤ اور کہنا جنرل ایوب آپ سے ملنا چاہتے ہیں . جب وفد نے اپنا تعاف کرواتے ہو ئے داتا دربار کے لوگوں سے ساغر کا پتہ پوچھا . تو لوگوں نے طنزیہ لہجوں کیساتھ جواب دیا " آپ اس چرسی , بھنگی کی بات کر رہے ہیں وہ دیکھیں سامنے پڑا ہے چرسیوں کے جھرمٹ میں " وفد اس کے پاس گیا اور اس کو جنرل ایوب کا پیغام دیا .

ساغر نے کہا جاؤ ان سے کہہ دو کہ ساغر کی کسی سے نہیں بنتی اور ساتھ ایک مصرعہ پڑھا

ہم سمجھتے ہیں ذوق سلطانی

یہ کھلونوں سے بہل جائیگا

ب انھوں نے یہ شعر پڑھے تو وہ نشے میں مدہوش تھے ہر نشئی وہاں قہقہ لگا کر ہنس پڑا . بےتحاشا اسرار کے باوجود ساغر نہ مانے تو وفد واپس لوٹ گیا اور سارےاحوال جنرل ایوب کو آگاہ کیا . جنرل ایوب ساغر سے ملنے خود لاہور چلے گئے اور ساغر کی حالت زار دیکھ کر رونے لگے جب ہاتھ بڑھا کر انھوں نے غم سےاور نشے سے چور ساغر سے مصحافہ کرنا چاہا تو ساغر نے ہاتھ پیچھے ہٹا لیا کہا کہ

جس عہد میں لُٹ جائےفقیروں کی کمائی

اس عہد کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے

آؤ اک سجدہ کریں عالم مدہوشی میں

لوگ کہتے ہیں ساغر کو خُدا یاد نہیں

متعلقہ خبریں