برطانیہ میں تقریبا 12 لاکھ افراد کسی قسم کی سالانہ رخصت حاصل نہیں کر سکے جب کہ۔۔۔۔۔۔اہم تحقیق

برطانیہ میں تقریبا 12 لاکھ افراد کسی قسم کی سالانہ رخصت حاصل نہیں کر سکے جب کہ۔۔۔۔۔۔اہم تحقیق

برطانیہ میں تقریبا 12 لاکھ افراد کسی قسم کی سالانہ رخصت حاصل نہیں کر سکے جب ... 28 جولائی 2018 (21:50) 9:50 PM, July 28, 2018

برطانیہ میں ٹریڈز یونین کانگریس (TUC) کی رپورٹ کے مطابق لوگوں کی ایک بڑی تعداد درحقیقت کام سے رخصت حاصل نہیں کر پاتی ہے۔

اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانیہ میں تقریبا 12 لاکھ افراد کسی قسم کی سالانہ رخصت حاصل نہیں کر سکے جب کہ 10 لاکھ افراد ایسے تھے جن کو کم سے کم مقررہ سالانہ 5.5 ہفتوں سے بھی کم کی رخصت ملی۔ملازمین کو تنخواہ کے ساتھ رخصت کی مد میں سالانہ 3 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہو رہا ہے۔رہائش، خوراک، زراعت اور کان کنی کے شعبوں میں کام کرنے والے، رخصت سے سب سے زیادہ محروم رہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ شعبے اُن پیشوں کا 43.5% ہیں جن مین کام کرنے والے رخصت کا مطالبہ نہیں کرتے۔ٹریڈز یونین کانگریس کی سکریٹری جنرل نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اگر ورکرز اُس وقت کو حاصل نہیں کرتے جس کے وہ مستحق ہیں تو پھر وہ مزید تھکاوٹ کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ آجرین کے پاس کوئی بہانہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ ملازمین کی واجب الادا رخصت کو چوری کریں۔مختلف رپورٹوں کے مطابق برطانیہ میں ورکرز سالانہ اربوں گھنٹے بنا کسی معاوضے کے اضافی کام کرتے ہیں۔ ٹریڈز یونین کاگریس نے باور کرایا ہے کہ حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ متعلقہ قانون پر عمل درامد پر سختی کریں تا کہ اُن مینجرز کو ہوشیاری سے روکا جا سکے جو ملازمین کو اُن کی رخصت کے حوالے سے دھوکہ دے رہے ہیں۔آجرین پر لازم ہے کہ وہ کام کرنے والے اکثر ملازمین کو سالانہ کم از کم 28 روز کی رخصت تنخواہ کے ساتھ مُہیّا کریں۔ٹریڈز یونین کانگریس کے مطابق بہت سے ملازمین کو کام کے غیر واقعی بوجھ کے نیچے رکھا گیا اور ارباب اختیار نے جان بوجھ کر رخصت کی درخواستوں کو مسترد کیا۔

متعلقہ خبریں