نئی وفاقی حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائربڑھانے کیلئے چین سے ایک ارب ڈالرکارعایتی قرضہ مل گیا

نئی وفاقی حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائربڑھانے کیلئے چین سے ایک ارب ڈالرکارعایتی قرضہ مل گیا

نئی وفاقی حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائربڑھانے کیلئے چین سے ایک ارب ... 28 جولائی 2018 (16:21) 4:21 PM, July 28, 2018

نئی وفاقی حکومت کوکرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا بڑا چیلنج درپیش ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائربڑھانے کیلئے چین سے ایک ارب ڈالرکارعایتی قرضہ مل گیا ہے۔ چین نے یہ قرضہ شاہد خاقان عباسی کے دورمیں دینے پرآمادگی ظاہرکی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی حکومت کےعلاوہ آئی ایم ایف اورسعودی عرب سے بھی تعاون لیا جا سکتا ہے۔ سی پیک کے تحت چینی سرمایہ کاری کوبڑھانے پربھی توجہ دی جائے گی۔

زرمبادلہ کے ذخائر9 ارب ڈالررہ گئے تھے جو2 ماہ کی درآمدات کے برابرہیں۔ آئی ایم ایف میں پاکستان کا کوٹہ ڈھائی ارب ڈالرکے لگ بھگ ہے۔ دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی روپے کے مقابلے میں ڈالر4 روپے سستا ہوگیا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر131روپے سے کم ہوکر124روپے تک پہنچ گیا۔ ڈالر کی قدر میں کمی کے بارے سیکرٹری جنرل فاریکس ایکسچینج کمپنیز ظفر پراچہ کا کہنا ہے کہ نئی حکومت پرعوامی توقعات بڑھنے سے بھی ڈالرکی قدرمیں کمی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کے دوران ایران اورافغانستان کی سرحد بند ہونے سے ڈالراسمگلنگ رک گئی۔ واضح رپے پاکستان میں نگراں حکومت بننے کے فوری بعد ڈالر کی قدر بڑھنے اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا۔ ڈالر کی قدر بڑھنے سے بیرونی قرضوں کی ویلیو میں بھی اضافہ ہوا۔ جس سے غیرملکی قرضے بھی بڑھ گئے۔ ڈالر بڑھنے کی بڑی وجہ ملک میں عام انتخابات 2018ء سے متعلق غیریقینی کی فضا قائم تھی۔ تاہم الیکشن کے پرامن انعقاد کے بعد سرمایہ کاری بڑھی اور کاروبار کووسعت ملی ہے۔

متعلقہ خبریں