اسٹیو جابز کے بارے میں حیران کن انکشافات

اسٹیو جابز کے بارے میں حیران کن انکشافات

اسٹیو جابز کے بارے میں حیران کن انکشافات 28 اگست 2018 (12:40) 12:40 PM, August 28, 2018

ٹیکنالوجی کی مشہورعالم کمپنی ’ایپل‘ کے بانی آنجہانی اسٹیو جابز کی صاحبزادی لیزا برینن کی ایک کتاب سامنے آئی ہے جس میں اس نے اپنے والد کے بارے میں حیران کن انکشافات کیے ہیں۔

امریکی اخبار’نیویارک ٹائمز‘ کے مطابق برینن نے جن واقعات کا تذکرہ کیا ہے وہ انتہائی لرزہ خیز ہیں اور وہ لکھتی ہیں’کاش وہ واقعات پیش نہ آئے ہوتے‘۔سنہ 1978ء کو پیدا ہونے والی لیزابرینن اپنی کتاب میں اسٹیو جابزکے بارے میں کئی حیران کن واقعات لکھے ہیں۔ وہ لکھتی ہیں کہ میرے والد بہت روایت پسند تھے بعض اوقات ان کا انداز بچگانہ ہوتا۔وہ لکھتی ہیں کہ اس کے والد اسٹیو جابز نے پہلی بارسنہ 1983ء کو ’لیپ ٹاپ دفتر‘ کے لیے ’لیزا‘ کا نام استعمال کیا تاکہ مجھےعلم رہے کہ دوسروں کی ہمدردیاں مخفی نہیں رکھ سکتے۔اسی طرح جب اس نے گھر میں گرمی مہیا کرنے والا نظام نصب کرنے سے انکار کیا تو وہ مخصوص پیمانے پربیٹی کواس کی تربیت دینا چاہتے تھے۔جب وہ ہیٹ سسٹم جابز کے پاس لایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس کی بدبو ٹوائلٹ جیسی ہے۔ لیزا برینن کہتی ہیں کہ انہیں مُجھ سے کوئی بغض نہیں تھا۔ وہ اسے سچائی کا احساس دلانا چاہتے تھے۔لیزا برینن کی کتاب’Small Fry‘ حال ہی میں منظرعام پرآئی ہے جس میں اس نے اپنے والد کے بارے میں حیران کن باتوں کا ذکر کیا ہے۔

بیٹی کو تسلیم کرنے سے انکار

اسٹیوجابزکے ہاں جب لیزا برینن پیدا ہوئیں تو اس وقت جابز کی عمر 23 سال تھی، بعد میں ڈی این اے کے ذریعے ثابت ہونے کے باوجود جابز نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ وہ برینن کے والد ہیں۔ جابز کی طرف سے برینن کی پرورش کے لیے انتہائی محدود رقم ملتی تھی۔چار ستمبر تک برینن کی تصنیف امریکا میں خریداری کے لیے دستیاب ہوگی۔ امریکا کی وادی سلیکون کے بارے میں لکھتے ہوئے رقم طراز ہیں کی اس کا بچپن موجدین کے درمیان گذرا۔

نجی زندگی

تعلیم کے حصول کے بعد لیزا برینن کو اس کے والد کی طرف سے خاص معاونت نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمت کے لیے لندن اور اٹلی کے بنکوں میں کام کیا۔ ڈیزائننگ کی ملازمت کی، عمومی اور ادبی جرائد میں مضامین لکھے۔لیزا برینن اپنے والد کی طرح زیادہ مشہور نہیں۔ اس وقت ان کی عمر چالیس سال ہے مگر ان کے جاننے والوں کا حلقہ بہت محدود ہے۔سنہ 2015ء کو آرون سورکین کی دستاویزی فلم ’اسٹیو جابز کی نجی زندگی‘ کے عنوان سے فلم ریلیز کی گئی تو اس میں بھی لیزا برینن کا ذکر موجود ہے مگر برینن نے اپنی کتاب کے لیے سور کین کے سوا اپنے والد کے کسی دوسرے مورخ سے کوئی معلومات حاصل نہیں کیں۔بوالٹر ایزاکسن نے بھی اس کے والد کی سوانح حیات لکھی مگر برینن کو اس پر اعتبار نہیں۔

متعلقہ خبریں