ایران میں ایک عدالت نے اکیس سالہ طالبہ کو جامعہ تہران میں مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں قصور وار قرار دے کر سات سال قید کی سزا

ایران میں ایک عدالت نے اکیس سالہ طالبہ کو جامعہ تہران میں مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں قصور وار قرار دے کر سات سال قید کی سزا

ایران میں ایک عدالت نے اکیس سالہ طالبہ کو جامعہ تہران میں مظاہروں میں حصہ ... 28 اگست 2018 (11:29) 11:29 AM, August 28, 2018

ایران میں ایک عدالت نے اکیس سالہ طالبہ کو جامعہ تہران میں مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں قصور وار قرار دے کر سات سال قید کی سزا سنائی ہے۔

اصلاح پسندوں کے اخبار شہ رگ کی رپورٹ کے مطابق :’’پریسہ رفاعی جامعہ تہران میں آرٹس کی طالبہ ہے ۔اس کو قومی سلامتی کے منافی اجتماع منعقد کرنے ،نظام کے منافی پروپیگنڈا اور نقض ِ امن کے الزامات میں قصور وار قرار دے کر سزا سنائی گئی ہے‘‘۔

ان کے وکیل سعید خلیلی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اس سزا کو غیر منصفانہ اور نامناسب قرار دیا ہے۔انھوں نے شہ رگ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میرے نزدیک ان الزامات میں سے کوئی بھی طالبہ کو کسی جرم کا قصور وار قرار دینے کے لیےمنطقی اور قانونی جواز کا حامل نہیں ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ مقدمے میں بیان کردہ مبینہ جرائم کا تعلق دسمبر کے اوائل میں جامعہ تہران میں طلبہ یونین کے ایک مظاہرے سے ہے۔انھوں نے ڈارمیٹری کھلنے کے اوقات سمیت اپنے مطالبات منوانے کے لیے یہ مظاہرہ کیا تھا مگر ان کے یہ تمام اقدامات آئین میں بیان کردہ حقوق اور قانون کے فریم ورک کے عین مطابق تھے۔

اصلاح پسندوں کے اخبار اعتماد میں شائع شدہ ایک مضمون کے مطابق جامعہ تہران میں احتجاجی مظاہرے میں حصہ لینے پر کل 45 طلبہ و طالبات کو حراست میں لیا گیا تھا اور وہ سب اس وقت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

ان میں سے دو کو اب تک آٹھ آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔البتہ اس مضمون میں ان کے کیسوں کی مزید تفصیل نہیں بتائی گئی۔تاہم اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان زیر حراست تمام طلبہ وطالبات کے خلاف آیندہ ماہ مقدمات کی سماعت مکمل ہوجائے گی۔

بہت سے ایرانیوں نے ٹویٹر پر طالبہ الرفاعی کی حمایت کا اظہار کیا ہے اور اس کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔وہ ’’ریلیز پریسہ رفاعی‘‘ کے ہیش ٹیگ کے ساتھ اپنی تحریریں پوسٹ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں