ثقیف کاسردار عبدیا لیل تھا جس کو سمجھانے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ10 نبوت میں طائف کا سفر کیا تھا

ثقیف کاسردار عبدیا لیل تھا جس کو سمجھانے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ10 نبوت میں طائف کا سفر کیا تھا

ثقیف کاسردار عبدیا لیل تھا جس کو سمجھانے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ... 27 مئی 2018 (23:01) 11:01 PM, May 27, 2018

ثقیف کاسردار عبدیا لیل تھا جس کو سمجھانے کیلئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ10 نبوت میں طائف کا سفر کیا تھا ۔ اور اس نے آپ کی بات سننے سے نہ صرف انکار کردیا تھا بلکہ اوباشوں کو آپ کے پیچھے لگادیا تھا جنہوں نے پتھر مار مار کر آپ کو طائف سے نکال دیا تھا ۔ اس وقت نبی پاک نے ان کیلئے بددعا نہیں فرمائی تھی بلکہ اس امید کااظہار کیا تھا کہ اگر یہ لوگ نہیں تو ان کی نسلیں اسلام قبول کریں گی ۔ اب وہی دشمن اسلام خود بخود اسلام کیلئے اپنے دل میں جگہ پاتے اور بخوشی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری دیتے ۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ یہ اہل ثقیف میری قوم کے لوگ ہیں ۔ کیامیں انہیں اپنے ہاں ٹھہرا لوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں انہیں ایسی جگہ اتارو جہاں قرآن کی آواز ان کے کانوں میں پڑے ۔ تب ان کے خیمے مسجد میں لگائے گئے ۔

جہاں سے یہ لوگ قرآن بھی سنتے تھے اور لوگوں کو نماز پڑھتے بھی دیکھتے تھے ۔ اس طرح ان کے دلوں میں اسلام کی صداقت گھر کرگئی ۔ اگلی صبح وہ لوگ خدمت اقدس میں آئے اور اسلام قبول کرنے سے پہلے ترک نماز کی رخصت چاہی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں نماز نہیں ۔ پھر انہوں نے کہا ہمیں جہاد کیلئے نہ بلایا جائے اور نہ ہی ہم سے زکوٰۃ وصول کی جائے ۔ آپ نے خاموشی اختیار کیے رکھی کہ اسلام کے اثر سے یہ کام وہ خود بخود کرلیں گے ۔ اس طرح صرف دس سال کے اندراندراسلام کی وہ وعوت جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنے کیلئے10 نبوت میں طائف تشریف لے گئے تھے آج طائف میں بہار پیدا کرنے لگ گئی