اگر ایران یہ کام کر لے تو ھم اس سے دوستی کر لیں گے۔امریکہ نے ایران کے سامنے شرائط رکھ دیں

اگر ایران یہ کام کر لے تو ھم اس سے دوستی کر لیں گے۔امریکہ نے ایران کے سامنے شرائط رکھ دیں

اگر ایران یہ کام کر لے تو ھم اس سے دوستی کر لیں گے۔امریکہ نے ایران کے سامنے ... 27 مئی 2018 (11:47) 11:47 AM, May 27, 2018

امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیوکا کہنا ہے کہ ایران کو خطےمیں مداخلت کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرے گا۔ ہم ایران کو خطے میں بے لگام نہیں چھوڑ سکتے۔

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ اگر ایرانی رہنما امریکا کے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے ایک نارمل ملک کا طرز عمل اختیار کرتے ہیں تو پھر امریکی (شہری) ایران آئیں گے اور اس سے ایک دوست ملک کا برتاؤ کریں گے۔

’وائس آف امریکا‘کے ساتھ ایک انٹرویو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ رواں ہفتے قبل ازیں ان کی طرف سے ایران سے متعلق واضح کی جانے والی حکمت عملی کا مقصد ایران کے رہنماؤں کے لیے ان شرائط کو عائد کرنا ہے تاکہ وہ "عام رہنماؤں" جیسا رویہ اختیار کریں۔

انہوں نے ایک بار پھر اس بات کو دہرایا کہ امریکہ ایران میں حکومت کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے ایران کے جلاوطن گروپوں پر بھی ایسا نا کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نہیں چاہتے کہ وہ حکومت کو تبدیل کرنے کی وکالت کریں۔ " انہوں نے کہا کہ جب تک یہ گروپ ان مقاصد کے لیے کام کریں گے جو امریکہ کے ہیں تو وہ ان کی کوششوں کو خوش آئند کہیں گے۔

تاہم پومپیو ں نے کہا کہ (ایرنی) حزب مخالف کے چھوٹے "گروپوں" نے ہمیشہ امریکہ کے اہداف پر اتفاق نہیں کیا ہے تاہم انہو ں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کن گروپوں کی بات کر رہے ہیں۔

پومپیو نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کانگرس کی قانون سازی کرنے کی ان کوششوں کی حمایت کرے گی جس کے تحت ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کی چھپی ہوئی دولت کو منظرعام پرلانے کی کوشش کی جائے گی جن کو ایرن کے اندر ان کے بہت سے نقاد بدعنوان خیال کرتے ہیں۔

پومپیو نے کہا کہ "اگر ہم ایسی شرائط مقرر کرتے ہیں جن سے ایران کے رہنما (اپنا رویہ) ختم کرتے ہیں تو یہ ایرانی عوام کے لیے بڑی کامیابی ہو گی اور امریکی وہاں جائیں گے اور ہم وہ سب بڑی چیزیں حاصل کریں گے جو ہم اس وقت حاصل کرتے ہیں جب ہم دوست اور اتحادی ہوتے ہیں۔ "

انہو ں نےکہا کہ "جہاں تک ( ایران میں زیر حراست) امریکی شہریوں کا سوال ہے ہم امید کرتے ہیں کہ ایران کی سار ی قیادت کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ ان کے بہت زیادہ مفاد میں ہے اور ایک انسانی مسئلہ سمجھتے ہوئے ان سب امریکی شہریوں کو اپنے خاندانوں کے ساتھ آ ملنے کی اجازت دیں۔"

انٹرویو میں پومپیو نے امریکا کے اس مطالبے کو بھی کھل کر بیان کیا کہ ایران ، اسرائیل کو تباہ کرنے کے دھمکیاں دینا بند کر دے اور دیگر ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بننے والے طرزعمل کو بھی روک دے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی رہنما اپنے عوام کی حوصلہ شکنی کریں کہ وہ ناصرف " اسرائیل مردہ باد" بلکہ " امریکا مردہ باد" کے نعرے نا لگائیں۔

متعلقہ خبریں