پاکستان میں کچھ اور باہر مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ عمران خان وزیر اعظم بنے آپ مغربی پریس دیکھ لیں وہ نہیں چاہتے اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کو۔۔۔۔۔۔جب کسی ملک کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔ پہلے انہیں کہتے ہو کہ آپ سڑکیں بناؤ میٹرو بناؤ اور آپ اس کو قرضوں ۔۔۔۔۔اہم حقائق پڑھئے

پاکستان میں کچھ اور باہر مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ عمران خان وزیر اعظم بنے آپ مغربی پریس دیکھ لیں وہ نہیں چاہتے اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کو۔۔۔۔۔۔جب کسی ملک کو تباہ کرنا ہوتا ہے۔۔۔ پہلے انہیں کہتے ہو کہ آپ سڑکیں بناؤ میٹرو بناؤ اور آپ اس کو قرضوں ۔۔۔۔۔اہم حقائق پڑھئے

پاکستان میں کچھ اور باہر مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ عمران خان وزیر اعظم بنے ... 27 جون 2018 (23:59) 11:59 PM, June 27, 2018

اوریا مقبول جان نے پروگرام حرفِ راز میں پاکستان کی موجودہ حالت پر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ :"نواز شریف لوگوں نے اس وقت ملک کی اکانومی کو جس حالت میں چھوڑا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے جسم میں سے جان نکال دی ہو تو اس وقت آپ کے سامنے میں تین چار اہم باتیں رکھنا چاہتا ہوں ابھی ایک انویسٹمنٹ ریٹنگ ہوئی ہے جس میں آپ بتاتے ہیں کہ یہ ملک سرمایہ لگانے کے لیے یہ ملک محفوظ ہے اس نے پاکستان کو پہلے پازیٹو پہ رکھا ہوا ہے اب جو 21 جون کو ریٹنگ آئی ہے اس نے پاکستان کو نیگیٹو میں ڈال دیا ہے کہ آپ اگر پاکستان میں ایک بھی پیسہ لگائے گا چاہے وہ پاکستانی ہو یا باہر سے وہ اپنا خود زمہ دار ہے -وہ کہتے یہ ہیں کہ آپ کی جو کرنسی کی قیمت کم ہو رہی ہے وہ آپ آئندہ پوری نہیں کر سکتے اور ابھی آپ جو کرپٹ لوگوں سے پیسے واپس لانے کی بات کر رہے ہیں آپ چار پانچ بلین سے زیادہ اکٹھی نہیں کر سکتے - اور دوسری طرف پاکستان جو چیزیں منگوا رہا ہے تیل اور دوائیں اور دوسری چیزیں اور جو باہر بھیج رہا ہے گندم چاول قالین وغیرہ ان میں بہت فرق ہے ان کو بیلنس کرنے کے لیے ہمیں سولہ بلین ڈالر لگانے پڑیں گے پاکستان کا اس وقت جو تیل کا بل ہے وہ تیس فیصد ہے تیل کا بل اتنا کیوں ہے ابھی سی پیک والے جو ہیں وہ رو رہے ہیں وہ کہتے ہیں نواز شریف صاحب نے پاکستان کو اس حالات میں چھوڑا ہے کہ پاکستان اب سی پیک کے لیے کوئی بھی ادائیگی نہیں کر رہا ہے اس کے بعد ساہیوال کے پراجیکٹ کے لیے سولہ ارب روپے کی ادائیگی کرنی تھی تو چائینیز کہتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے شنگھائی بینک کہتا ہے کہ وہ جو ساٹھ میگا واٹ بجلی کا پراجیکٹ چل رہا تھا اس میں بھی پاکستان نے کوئی ادائیگی نہیں کی تو چائنہ کا پاکستان داماد تو نہیں ہے کہ وہ ہمیں مفت میں دیں گے سب چائنہ والے کہتے ہیں کہ پاکستان میں بنگلہ دیش ویت نام اور ان تمام ممالک سے مہنگی بجلی ہے ایک یونٹ چودہ روپے کی ہے جو لوگ خرید نہیں پاتے -تو وہ جاتے ہوئے پاکستان کے بارے میں چائنہ کا فیڈ بیک تباہ کر کے گئے ہیں - اور دوسری بات جو ہے وہ یہ ہے کہ پچھلی دفعہ پاکستان کی ٹیکس کلکشن بارہ ارب روہے تھی اس سال چھ ارب روپے ہے اور پاکستان کے خزانے میں کچھ بھی باقی نہیں بچا اور اگر آپ کو اب اپنی سڑکوں پر گاڑیاں چلانی ہیں تو وہ نچوڑ کے چلیں گی-اس کے بعد ن لیگ کو پورا یقین تھا کہ وہ آئندہ الیکشن نہیں جیتے گی اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو مفتاح اسماعیل اتنا برا بجٹ نہ جاتا کہ جب وہ جائیں تو جو بھی آئندہ حکومت آئے تو وہ چیخے کہ یہ کیا کر کے چلے گئے ہیں - اب دیکھیں میں آپ کو جاتے جاتے چار لاکھ روپیہ تنخواہ دے جاتا ہوں اور آپ دو ماہ چار لاکھ لیتے ہیں تو پھر آپ کیسے دو لکھ لیں گے - اور پھر آپ کہیں گے کہ نواز شریف بڑےاچھے تھے -

اب اس حالت میں آپ چلے جاتے ہیں ایف اے ٹی ایف میں آپ وہاں رہے ہیں تین سال 2012 سے 2015 تک اور پھر آپ دوبارہ آپ اس میں آئے ہیں خواجہ آصف کی حماقت کی وجہ سے جہالت کہ انتہا ہے کہ امریکہ آپ کی مخالفت کر رہا ہے اور آپ کہہ رہے ہیں واہ واہ اور پھر وہاں سب کی لڑائی شروع ہو گئی پھر اس کے بعد وہ سعودی عرب ,روس اور چائنہ کو قائل کرنے گئے ہیں وہ سب پیچھے ہٹ گئے انہوں نے کہا کہ یہ اتنے غیر زمہ دار لوگ ہیں انہوں نے کہا کتنے جاہل لوگ ہیں اور ان کو تم نے اپنا وزیر اعظم بنایا ہوا ہے تو ادھر آپ کو تھوڑا سپورٹ کیا یے ترکی نے اور آپ تھوڑے بچ گئے ہیں -تو ان کرائسز میں جو نئی حکومت ہے وہ نہیں سنبھال سکے گی اور اوپر سے آپ نے خرچ کرنے ہیں اربوں روپے الیکشن کے اوپر - اور مجھے نہیں لگتا کہ الیکشن ہوں گے -اب پاکستان یہ چاہتا ہے کہ عمران خان وزیر اعظم آ جائے اور پاکستان میں کچھ اور باہر مغربی ممالک نہیں چاہتے کہ عمران خان وزیر اعظم بنے آپ مغربی پریس دیکھ لیں وہ نہیں چاہتے اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان پاکستان کو بہتر بنانے کی بات کرتا ہے اور وہ اس پر الزام نہیں لگا سکتے کوئی کہ وہ ایک کھلاڑی ہے اور اس کا جو امیج ہے وہ ایک ایکولر قسم کا ہے اور اس پر کرپشن بھی ثابت نہیں ہو رہی نہی تو وہ کل نواز شریف کی پچاس جائیدادیں نکال کر لے آئے تھے تو ایسے بندے کو مغرب یہاں تک کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ بھی قبول نہیں کر تی اور پھر سٹیفن ہاکنگکہتا ہے کہ ایسی حالت میں قتل ہوتے ہیں تو عمران خان صاحب کو اپنی سیکیورٹی مزید مضبوط کر لینی چاہیے -تو وہ کہتا ہے ہ جب کسی ملک کو تباہ کرنا ہوتا ہے تو آپ پہلے انہیں کہتے ہو کہ آپ سڑکیں بناؤ میٹرو بناؤ اور آپ اس کو قرضوں کے بوجھ تلے دبا دیتے ہو اور یہ پچاس فیصد ہو جاتا ہے -تو وہ اپنے دو چار بندوں کو بھیج دیتے ہیں اوروہ کہتے ہیں کہ اپنی فلاں فلاں چیز ہمیں دے دو اور جب اس سے بھی نہیں کچھ بن پاتا تو پھر قتل ہوتے ہیں -اوروہ کہتا ہے کہ چار بندے ایسے قتل ہوئے ہیں -تو میں سمجھتا ہوں ان سارے حالات کو دیکھتے ہوئے کہ کوئی بڑا واقعہ ہو سکتا ہے -دیکھیں بے نظیر کو سنبھالنے کے لیے آصف زردری کی ذہانت موجود تھی لیکن یہاں کوئی ذہانت موجود نہیں ہے -"

متعلقہ خبریں