ادا جعفری:جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی ......... کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا

ادا جعفری:جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی ......... کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا

ادا جعفری:جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی ......... کسی کارواں کا ... 27 جون 2018 (11:56) 11:56 AM, June 27, 2018

جو چراغ سارے بجھا چکے انہیں انتظار کہاں رہا

یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا

جو دعا کو ہاتھ اٹھائے بھی تو مراد یاد نہ آ سکی

کسی کارواں کا جو ذکر تھا وہ پس غبار کہاں رہا

یہ طلوع روز ملال ہے سو گلہ بھی کس سے کریں گے ہم

کوئی دل ربا کوئی دل شکن کوئی دل فگار کہاں رہا

کوئی بات خواب و خیال کی جو کرو تو وقت کٹے گا اب

ہمیں موسموں کے مزاج پر کوئی اعتبار کہاں رہا

ہمیں کو بہ کو جو لیے پھری کسی نقش پا کی تلاش تھی

کوئی آفتاب تھا ضو فگن سر رہ گزار کہاں رہا

مگر ایک دھن تو لگی رہی نہ یہ دل دکھا نہ گلہ ہوا

کہ نگہ کو رنگ بہار پر کوئی اختیار کہاں رہا

سر دشت ہی رہا تشنہ لب جسے زندگی کی تلاش تھی

جسے زندگی کی تلاش تھی لب جوئبار کہاں رہا

متعلقہ خبریں