ادا جعفری:کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے ............ ان سے تو روح عصر ہمیں کچھ گلہ نہ تھا

ادا جعفری:کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے ............ ان سے تو روح عصر ہمیں کچھ گلہ نہ تھا

ادا جعفری:کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے ............ ان سے تو روح عصر ہمیں کچھ ... 27 جون 2018 (11:36) 11:36 AM, June 27, 2018

جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا

جینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھا

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھا

اچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا

دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھا

ورنہ نگاہ و دل میں کوئی فاصلہ نہ تھا

کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئے

ان سے تو روح عصر ہمیں کچھ گلہ نہ تھا

جلتے رہے خیال برستی رہی گھٹا

ہاں ناز آگہی تجھے کیا کچھ روا نہ تھا

سنسان دوپہر ہے بڑا جی اداس ہے

کہنے کو ساتھ ساتھ ہمارے زمانہ تھا

ہر آرزو کا نام نہیں آبروئے جاں

ہر تشنہ لب جمال رخ کربلا نہ تھا

آندھی میں برگ گل کی زباں سے ادا ؔ ہوا

وہ راز جو کسی سے ابھی تک کہا نہ تھا

متعلقہ خبریں