عرب بتوں کے پجاری کیسے بنے تھے پڑھیۓ دلچسپ قصہ

عرب بتوں کے پجاری کیسے بنے تھے پڑھیۓ دلچسپ قصہ

عرب بتوں کے پجاری کیسے بنے تھے پڑھیۓ دلچسپ قصہ 26 مئی 2018 (23:26) 11:26 PM, May 26, 2018

ود , سوع , یغوث , یعوق,اور نسر حضرت نوح علیہ السلام اور ان سے پہلے زمانے میں پُوجے جانے والے بُت تھے . ان میں سے ود - مردانہ قوت اور عشق و مُحبت کا دیوتا تھا . اکثر لوگ اپنے بچوں کے نام اس نام پر رکھتے تھے

سواع ; محبوبیت اور حُسن و جمال کی دیوی تھی . اس کا بُت ایک حسین عورت کا سا تھا

یعوث ; جسمانی قوت کا دیوتا تھا . اس کی شکل شیر کی سی تھی

یعوق ; رفتار کا دیوتا تھا . اس کی شکل گھوڑے جیسی تھی

نسر ; بصارت کا دیوتا تھا . اس کی شکل باز اور گدھ جیسی تھی

طوفان ِ نوح کے دوران یہ بُت سیلاب میں بہہ گئے اور حجاز کی سرزمین میں جدہ کے ساحل پر ریت میں دب گے . ایک طویل عرصے بعد ایک حجازی عمروبن لحی نے انھیں ریت سے نِکالا اور جدہ سے تہامہ لے گیا . عمرو بن لحی ایک کاہن تھا اور خانہ کعبہ کا متولی بھی . اس کی کُنیت ابو شمامہ تھی . حج کے موسم میں ابو شمامہ نے نے اہلِ عرب کو بُت پرستی کی دعوت دی . جسے عرب سرداروں نے بخوشی قبول کیا . اور اس کی ابتدا ود سے کی گئی . اور عرب کا سردار عوف بن عذرہ ود کو اپنے ساتھ دومتہ الجندل لے گیا . (غزوہ تبوق کے موقعے پر حضرت مُحد صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو ود نامی بُت کو توڑنے کیلئے روانہ کیا . وہاں کے لوگوں نے جب اسے توڑنے سے منع کیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو قتل کر کے اس بُت کو توڑ دیا .)

وہاں اس نے اس نے ود کیلئے ایک معبد تعمیر کیا اور اسی بُت کی نسبت سے اس نے اپنے بیٹے کا نام عبدود رکھا

دوسرا بُت سواع بن ہذیل کا ایک شخص حارث بن تمیم لے گیا اور اسے وادی نخلہ میں رباط کے مقام پر نصب کیا گیا . اس نے یعوث کے بُت کو یمن ایک ٹیلے پر نصب کیا اور اس کا معبد بنوایا . اور چوتھے بُت یعوق کو بنو ہمدان کے شخص مالک بن مرثد نے خیوان کے مقام پر نصب کیا .اور پانچواں بُت قبیلہ حمیر کے ایک شخص معد یکرب کو دیا گیا اور یہ بُت ارضِ یمن میں بلیخ کے مقام پر نصب کیا گیا اس طرح پانچوں بُت جو سیلابِ نوح میں کھو گئے تھے. ان کی پوجا پورے عرب میں ہونے لگی .

ان پانچوں بُتوں کے علاوہ دوسرے بُتوں کو عرب میں لانے والا یہ ہی عمرو بن لحی ہے . ایک بار عمرو بیمار ہو گیا تو اس سے کہا گیا کہ " اگر تُو شام کی سر زمین پر بلقا کے مقام پر موجود چشمہ میں جا کر نہائے تو ٹھیک ہو جائیگا . جب وہ وہاں گیا تو اس نے دیکھا کہ لوگ بتوں کی پوجا کر رہے تھے

اُس نے پوچھا یہ کیا ہے .

وہاں کے لوگوں نے اس سے کہا " ان بتوں سے ہم بارش پاتے ہیں اور دُشمنوں پر غالب رہتے ہیں . "

عمرو بن لحی نے ان سے کُچھ بُت مانگے . انھوں نے دے دئیے اور عمرو نے لا کر خانہ کعبہ میں نصب کر دئیے تھے .

اس کے علاوہ یہ ہی عمرو تھا جس نے سر زمین عرب میں بحیرہ , ساقبہ , وصیلہ اور حام کی صورت میں شرک کی ابتدا کی.

ایسی اونٹنی جو مسلسل دس مادائیں جنتی . اس کی مہار چھوڑ دی جاتی اس کے بال نہ کُترے جاتے . مہمان کے علاوہ اس کا دودھ کوئی نہ پیتا . ایسی مادہ ساقبہ کہلاتی تھی . اگر کُھلی چھوڑ دینے کے بعد بھی یہ سابقہ کوئی مادہ جنتی تو اس مادہ کا کان پھاڑ کر اسے بھی ماں کیساتھ کُھلا چھوڑ دیا جاتا اور یہ مادہ بحیرہ کہلاتی . جو بکریاں پانچ دفعہ مسلسل مادائیں جنتی انھیں وصیلہ بنا دیا جاتا . اور اگر اس کے بعد اگر وہ کچھ بچے دیتی تو ان پر صرف ان کے مردوں کا حق ہوتا . عورتوں کو کچھ نہ ملتا . البتہ اگر وہ مادہ مر جاتی تو اسے کھانے پر مرد و عورت دونوں شریک ہوتے . جس اُونٹ کے نُطفے سے متواتر دس مادائیں پیدا ہوتیں اسے حام کہتے تھے . اس کی پُشت محفوظ ہو جاتی تھی اس پر سواری نہیں کی جاتی تھی ,نہ اس کے بال کاٹے جاتے اور اسے ریوڑ کے اندر کُھلا چھوڑ دیا جاتا

متعلقہ خبریں