جب میرے ملک کی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ حال ہے کہ ایک شخص عوام کا نمائندہ وزیراعظم بننے کے قابل ہے لیکن وہ امریکہ اور مغرب کو قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا ۔مولانا فضل الرحمٰن کو پرویز مشرف نے کیا کہا ۔مولانا نے بتا دیا

جب میرے ملک کی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ حال ہے کہ ایک شخص عوام کا نمائندہ وزیراعظم بننے کے قابل ہے لیکن وہ امریکہ اور مغرب کو قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا ۔مولانا فضل الرحمٰن کو پرویز مشرف نے کیا کہا ۔مولانا نے بتا دیا

جب میرے ملک کی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ حال ہے کہ ایک شخص عوام کا نمائندہ وزیراعظم ... 26 مئی 2018 (20:52) 8:52 PM, May 26, 2018

مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ :"جب متحدہ مجلس عمل نے 2002میں الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا تو جنرل پرویز مشرف نے مجھے بلا کر کہا کہ آپ الیکشن نہ لڑیں میں نے کہا میں الیکشن کیوں نہ لڑوں کیا میں پاکستان کا شہری نہیں ہوں تو انہوں نے واضح افاظ میں کہا کہ آپ جو امریکہ اور مغرب قبول نہیں کر رہا -"

انہوں نے کہا کہ :"جب میرے ملک کی اسٹیبلیشمنٹ کا یہ حال ہے کہ ایک شخص عوام کا نمائندہ وزیراعظم بننے کے قابل ہے لیکن وہ امریکہ اور مغرب کو قبول نہیں ہے تو وہ پاکستان کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا -تو میں نے انہیں کہا کہ کیا اسی کا نام آزادی ہے تو مجھے کہنے لگا کہ مولانا آپ بار بار کہتے ہیں کہ ہم غلام ہیں تو آپ اس حقیقت کو تسلم کر لیں "

انہوں نے کہا کہ :"میں نے ان سے کہا کہ میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں لیکن اب ہمارے سامنے دو راست ہیں ایک ان قوتوں کے سامنے سر تسلیم خم کر دینا اور یہ سبق آپ کے آباؤاجداد نے آپ کو پڑھایا ہے اور دوسرا ان کے سامنے ڈٹ جانا یہیرے آباؤو اجداد اوراسلاگ کا سبق ہے جو انہوں نے مجھے پڑھایا ہے -تجھے تیرے آباؤ و اجداد کا راتہ مبارک مجھے میرے آباؤ و اجداد کا راستہ مبرک میں ان کے خلاف لڑوں گا اورآخری دم تک لڑوں گا-"

متعلقہ خبریں