مومنوں کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا یوم وصال دس رمضان المبارک۔پڑھئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی سیرت مبارکہ

مومنوں کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا یوم وصال دس رمضان المبارک۔پڑھئے سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی سیرت مبارکہ

مومنوں کی ماں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کا یوم وصال دس رمضان ... 26 مئی 2018 (17:20) 5:20 PM, May 26, 2018

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ (پیدائش: 556ء– وفات: 30 اپریل 619ء) مکہ کی ایک معزز، مالدار، عالی نسب خاتون جن کا تعلق عرب کے قبیلے قریش سے تھا۔ جو حسن صورت و سیرت کے لحاظ سے "طاہرہ" کے لقب سے مشہور تھیں۔ انھوں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجارتی کاروبار میں شریک کیا اور کئی مرتبہ اپنا سامانِ تجارت دے کر بیرون ملک بھیجا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تاجرانہ حکمت، دیانت، صداقت، محنت اور اعلی اخلاق سے اتنی متاثر ہوئیں کہ آپ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شادی کا پیغام بھجوایا۔ جس کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بڑوں کے مشورے سے قبول فرمایا۔ اس وقت ان کی عمر چاليس سال تھی جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف پچیس سال کے تھے۔ خدیجہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا اور پہلی ام المومنین ہونے کی سعادت حاصل کی۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ساری کی ساری اولاد خدیجہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے پیدا ہوئی اورصرف ابراہیم جو ماریہ قبطیہ رضي اللہ تعالٰی عنہا سے تھے جو اسکندریہ کے بادشاہ اورقبطیوں کے بڑے کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوبطورہدیہ پیش کی گئی تھیں ۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ اسد بن عبد العزیٰ بن قصی، قصی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جد امجد تھے۔ آپ کا تعلق قریش کی ایک نہایت معزز شاخ بنی اسد سے تھا، یہ خاندان اپنی شرافت و نجابت اور کاروباری معاملات میں ایمانداری اور راست روی سے عزت و شہرت کے بلند مقام پر فائز تھا۔ آپ کی والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا۔ آپ کے والد ایک مشہور تاجر تھے اور بہت مالدار۔

عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ نے فرمایا کہ ایک دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سامنے خدیجہ کو یاد کر کے ان کی بہت زیادہ تعریف و توصیف فرمائی تو عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کے بیان کے مطابق ان پر وہی اثر ہوا جو کسی عورت پر اپنے شوہر کی زبانی اپنے علاوہ کسی دوسری عورت کی تعریف سن کر ہوتا ہے جس پر عائشہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ قریش کی اس بوڑھی عورت کا بار بار ذکر فرما کر اس کی تعریف فرماتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ نے اس کے بعد آپ کو مجھ جیسی جوان عورت بیوی کے طور پر عطا کی ہے۔ اس کے بعد عائشہ فرماتی ہیں کہ میری زبان سے یہ کلمات سن کر آپ کا رنگ اس طرح متغیر ہو گیا جیسے وحی کے ذریعے کسی غم انگیز خبر سے یا بندگانِ خدا پر اللہ کے عذاب کی خبر سے ہو جاتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ

ان سے بہتر مجھے کوئی بیوی نہیں ملی کیونکہ انہوں نے ایمان لا کر اس وقت میرا ساتھ دیا جب کفار نے مجھ پر ظلم و ستم کی حد کر رکھی تھی، انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب دوسرے لوگوں نے مجھے اس سے محروم کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ ان کے بطن سے مجھے اللہ تعالٰیٰ نے اولاد کی نعمت سے سرفراز فرمایا جب کہ میری کسی دوسری بیوی سے میری کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ سیدہ خدیجہ نے 65 سال کی عمر میں ہجرت سے تین سال قبل 10 ماہِ رمضان بروز پیر 30 اپریل 619ء کو مکہ میں وفات پائی۔ 

متعلقہ خبریں