انہوں نے اجتماعی طور پر قبائل کے ساتھ غداری کی ہے ۔ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے پرمولانا فضل الرحمٰن کا رد عمل ۔وہ کچھ کہہ ڈالا جو کوئی سوچ نہ سکتا تھا۔

انہوں نے اجتماعی طور پر قبائل کے ساتھ غداری کی ہے ۔ فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے پرمولانا فضل الرحمٰن کا رد عمل ۔وہ کچھ کہہ ڈالا جو کوئی سوچ نہ سکتا تھا۔

انہوں نے اجتماعی طور پر قبائل کے ساتھ غداری کی ہے ۔ فاٹا کے خیبر پختونخواہ ... 26 مئی 2018 (16:33) 4:33 PM, May 26, 2018

فاٹا کے خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کی خبر سن کر مولانا فضل الرحمٰن کا رد عمل شدید تھا - مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ :"انہوں نے اجتماعی طور پر قبائل کے ساتھ غداری کی ہے -اور پشتون جس کی زبان ہو ,اس کا سر پھٹ سکتا ہے لیکن زبان نہیں پھر سکتی " مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ مجھے شرم آتی ہے کہ میں ان لوگوں کو اپنے صوبے پشتونوں کا رہنما اور لیڈر کہوں " مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ :" فاٹا کا انظمام کرو نہ کرو لیکن قبائل سے تو پوچھ لو -" ان کا کنا تھا کہ :" میں جانتا ہوں ان لوگوں کو ,قبائل کون ہوتے ہیں جو ان سے پوچھا جائے ,میں تم سے پوچھتا ہوں تم کون ہوتے ہو جو قبائل کا فیصلہ کرو گے " انہوں نے مزید کہا کہ :" حکومت نے اپنا موقف تبدیل کیا اور انظمام کے بجائے ایک رواج ٹیکس لے آئے-رواج ٹیکس پر بھی ہمارے تحفظات تھے - ہم نے کہا رواج ٹیکس بھی انظمام کا ایک حربہ ہے -اور ہم نے ان تمام باتوں کی نشاندہی کی جو رواج ٹیکس کے اندر انظمام کی دلالت کرتی تھیں -"مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ :" اسمبلی میں یہی لوگ تھے جنہوں نے میرے ساتھ جھگڑا کیا اور انظمام کے دعوے دار بن گئے اور اسکے بعد رواج کے دعوے داار بھی یہ بن گئے -" انہوں نے مزید کہا کہ :"آج میں ایک بات بتا دوں آپ لوگوں کو پہلے انہوں نے انظمام کو غلط کہا اور اب کہتے ہیں کہ رواج ٹیکس بھی غلط ہے -ہم سے غلطی ہو گئی ہے -"

متعلقہ خبریں