اگر میں صدر ہوتا تو شکیل آفریدی کیلئے یہ کام کرتا۔ پرویز مشرف کے تازہ بیان سے پاکستانیوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔

اگر میں صدر ہوتا تو شکیل آفریدی کیلئے یہ کام کرتا۔ پرویز مشرف کے تازہ بیان سے پاکستانیوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی۔

اگر میں صدر ہوتا تو شکیل آفریدی کیلئے یہ کام کرتا۔ پرویز مشرف کے تازہ بیان سے ... 26 مئی 2018 (10:59) 10:59 AM, May 26, 2018

پاکستان کےسابق فوجی صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ اگر وہ اس وقت ملک کے صدر ہوتے تو ڈاکٹر آفریدی کو رہا کرکے امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو جاتے، بشرطیکہ ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کے تحت، امریکہ کے ساتھ کوئی سمجھوتا طے پا جاتا۔

غیر ملکی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے پرویز مشرف نے پاکستان۔امریکہ تعلقات کی تاریخ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ایک وفادار ساتھی کی حیثیت سے امریکہ کا ساتھ دیا ہے، لیکن امریکہ نے پاکستان کی طرف دوستی کا ہاتھ اسی وقت بڑھایا جب اسے پاکستان کی ضرورت پیش آئی۔

اُنہوں نے کہا کہ ’’امریکہ میں موجودہ انتظامیہ کے دور میں پاکستان۔امریکہ تعلقات خراب ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں اور اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ دونوں ملک اختلافات دور کرنے کیلئے مذاکرات کریں‘‘۔

پرویز مشرف نے کہا کہ ’’دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات کی وجہ افغانستان کی صورت حال ہے اور امریکہ کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان امریکہ کو افغانستان کے حوالے سے ڈبل کراس کر رہا ہے۔ پاکستان کو بھی امریکہ سے شکایات ہیں اور امریکہ کو یہ بات سمجھنی چاہئیے‘‘۔

متعلقہ خبریں