ضعیف العمری میں کی جانے والی ورزش اور کسرت قوت مدافعت کو نوجوانوں کے برابر کر دیتی ہے۔ برطانوی ماہرین صحت

ضعیف العمری میں کی جانے والی ورزش اور کسرت قوت مدافعت کو نوجوانوں کے برابر کر دیتی ہے۔ برطانوی ماہرین صحت

ضعیف العمری میں کی جانے والی ورزش اور کسرت قوت مدافعت کو نوجوانوں کے برابر ... 26 مئی 2018 (06:30) 6:30 AM, May 26, 2018

برطانوی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ ضعیف العمری میں کی جانے والی ورزش اور کسرت قوت مدافعت کو نوجوانوں کے برابر کر دیتی ہے ۔کنگز کالج لندن کے ماہرین کی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ ضعیف العمری میں کی جانے والی ورزش سے قوت مدافعت کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ورزش ایک ایسی دوا ہے جسے ہر اٴْس شخص کو روزانہ کی بنیاد پر لینا چاہیے جو صحت مند رہنا چاہتا ہے۔

باقاعدہ سے کی گئی ’ کسرت ‘ جسم کی قوت مدافعت بڑھانے کے علاوہ ذہن، پٹھوں اور ہڈیوں کی مضبوطی کا باعث بنتی ہے۔ ضعیف العمر افراد میں انفیکشن، ہڈیوں کے بھربھرے پن اور کینسر میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ تاہم باقاعدہ ورزش کرنے والے عمر رسیدہ افراد کی قوت مدافعت جوان افراد کے برابر ہوتی ہے۔واضح رہے کہ ’’ٹی سیلز‘‘ کو جسمانی دفاعی نظام کی ’’پہلی صف‘‘ بھی کہا جاتا ہے جو قدرتی قوت مدافعت کو جراثیم وغیرہ کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔ ٹی سیلز گردن سے ذرا نیچے، سینے کے بالائی حصے میں اندر کی طرف موجود ’’تھائیمس گلینڈ‘‘ میں بنتے ہیں۔ یہ گلینڈ عمر کے ساتھ ساتھ سکڑتا جاتا ہے تاہم باقاعدہ ورزش اس گلینڈ کو سکڑنے سے بچاتی ہے۔

متعلقہ خبریں