وصی شاہ: کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے.... میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے

وصی شاہ: کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے.... میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے

وصی شاہ: کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے.... میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی ... 26 مئی 2018 (06:18) 6:18 AM, May 26, 2018

کیسا مفتوح سا منظر ہے کئی صدیوں سے

میرے قدموں پہ مرا سر ہے کئی صدیوں سے

خوف رہتا ہے نہ سیلاب کہیں لے جائے

میری پلکوں پہ ترا گھر ہے کئی صدیوں سے

اشک آنکھوں میں سلگتے ہوئے سو جاتے ہیں

یہ میری آنکھ جو بنجر ہے کئی صدیوں سے

کون کہتا ہے ملاقات مری آج کی ہے

تو مری روح کے اندر ہے کئی صدیوں سے

میں نے جس کے لیے ہر شخص کو ناراض کیا

روٹھ جائے نہ یہی ڈر ہے کئی صدیوں سے

اس کو عادت ہے جڑیں کاٹتے رہنے کی وصیؔ

جو مری ذات کا محور ہے کئی صدیوں سے