پاکستانی عوام میں شعور اور بیداری آگئی،صرف الیکشنز پر نظر آ نیوالےسیاستدانوں کا مختلف شہروں میں ریمانڈ شروع

پاکستانی عوام میں شعور اور بیداری آگئی،صرف الیکشنز پر نظر آ نیوالےسیاستدانوں کا مختلف شہروں میں ریمانڈ شروع

پاکستانی عوام میں شعور اور بیداری آگئی،صرف الیکشنز پر نظر آ ... 26 جون 2018 (21:38) 9:38 PM, June 26, 2018

پاکستانی عوام میں شعور اور بیداری کی نشانیاں سامنے آرپی ہیں عوام میں یہ سیاسی شعور نہ صرف شہروں بلکہ دیہاتوں میں بھی بیدار ہو رہا ہے . فصلی

سیاستدانوں سے دیہاتی اور غریب عوام آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کر رہے ہیں .اُن سے پُوچھ رہے ہیں کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں اُنھوں نے عوام کی فلاح و بہبو کیلئے کون سے اقدامات کئے ہیں . یہ تمام منظر ابھی دیکھنے کو مل رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں یہ مزید دیکھنے کو ملیں گے . یہ پاکستانی تاریخ میں سب سے بڑی تبدیلی رونما ہوئی ہے .

اس انقلاب کی مثالیں پچھلے دنوں میں بھرپور دیکنھے کو ملی ہیں .خاص طور پر کل جب شاہد خاقان عباسی کہوٹہ کے قریب اپنے حلقے میں گئے تو مُسلم .لیگ ن کے کارکنوں نے اُنھیں گھیر لیا اور سوالات اُٹھائے اس دوران مُسلم لیگ ن کے کُچھ کارکنوں نے اُنھیں سمجھانے کی کوشش کی لیکن جو صورتحال عیاں تھی اُس سے واضح طور پر لگ رہا تھا کہ اب پاکستان کے عوام مزید خاموش نہیں رہے گے اور ان لیڈرز سے پوچھیں گے.جب شاہد خاقان عباسی حلقے میں پہنچے تو لوگوں نے نعرے لگائے کہ" ووٹر کو عزت دو " .

حالیہ دنوں میں جب آصف علی زرداری سندھ کے شہر میں پہنچے تو کئی لوگوں نے براہ راست کھڑے ہوکر اُن سے شکوے شکایات کرنی شروع کر دئیے حکومتی پالیسیوں کو خُوب مزمت کا نشانہ بنایا .

مُسلم لیگ ن کے کارکن جعفر لغاری کو ڈیرہ غازی خان میں ایک نوجوان نے آڑے ہاتھوں لیا اور اُن سے کہا کہ " آپ نے کبھی سوچا ہے کہ میرے جذباتی ہونے کے کے پیچھے کیا منطق ہے . میں کیوں جذباتی ہو رہا ہوں, نہیں آپ نے کبھی نہیں سوچا ہے .میرا آپ سے سوال یہ ہے کہ ,لیکن جعفر لغاری نے نوجوان سے کہا کہ آپ پہلی میرے سوال کا جواب دو بیالیس کلو میٹر کا یہ پکی سڑک آپ کو کس نے دی ہے . عوام نے کہا کہ جمہوریت ہے سوال کرنا ہمارا حق ہے .اس کے جواب میں جعفر لغاری نے کہ " چُپ کر ہمیں سب پتہ ہے کہ کسی جمہوریت ہوتی ہے . سر آپ ہمیں بتائیں کہ ہم آپ کو کتنے عرصے سے ووٹ دےرہے ہیں . کمال لغاری نے کہا کہ 1 ووٹ کی پرچی وہ بھی اپنے قوم کے قبیلے کے سربراہ کو دے رپے ہو اور اُس پر اتنا ناز اور اتنی تکڑ ... جمال لغاری نے کہا کہ بیٹا آپ اس سوال کا جواب 25 جولائی کو دینا . اس کے جواب میں نوجوان نے کہا کہ ہم آپ کو 25 جولائی کو انشااللہ لازمی جواب دیں گے .

پیپلز پارٹی کے رُکن قومی اسمبلی سردار سلیم مزاری سے ایک آدمی نے کہا کہ " ہم آپ کی بنگلے پر کئی بار آئیں ہیں ان کو کہے کر بھی گئے ہی کہ ہمارے پاس اسکول نہیں ہیں .نوجوان کی بات پر سلیم مزاری نے کہا کہ آپ تقریر کرنا چاہتے ہیں یا سوال کرنا چاہتے ہیں تعلیم ہمارا حق ہے یونیورسٹی ہمارا حق ہے ہمیں ہمارا حق دو .ہم پچھلے پچاس سالوں سے آپ کی باتیں سُن رہے ہیں مگر آپ نے ہمارے لئیے کوئی کام نہیں کیا .

متعلقہ خبریں