طیب اردگان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر کسے تکلیف ہے اور کیوں ہے

طیب اردگان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر کسے تکلیف ہے اور کیوں ہے

طیب اردگان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر کسے تکلیف ہے اور کیوں ہے 26 جون 2018 (21:13) 9:13 PM, June 26, 2018

طیب اردگان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر اور سیکولراور مغربی ممالک کے شور مچانے پر اوریا مقبول جان نے پروگرام حرفِ راز میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ :"ترکی پر بہت محنت کی گئی ہے -تمام مغربی اتحادیوں نے اس پر بہت محنت کی ہے -لارنس آف اریبیہ آپ پڑھیں آپ کو لگ پتہ جائے گا -لارنس آف اریبیہ کو باقاعدہ ایم آئی فائیو اور سکس نے باقاعدہ ٹرین کر کے بھیجا تھا اسے عربی سکھائی تھی فقہ سکھایا اور سب کچھ سکھایا اور اس کو پلانٹ کیا سعودی عرب میں اور حجاز میں ایک آدمی تھا شیز مکہ سید تھا اس نے اس کو جا کے کہا کہ حکومت تو تمہاری ہونی چاہیے ترک کہاں سے آ گئی خلافت تو قریش کے لیے ہے اس نے کھڑے ہو اعلان بغاوت کر دیا اور فائر کیا کھڑے ہو کے بالکنی میں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقوں نے کہا حجاز آپ کا ,رسول آپ کے خاندان سے آپ ہمیں صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تبرکات دے دو ہم چلے جاتے ہیں اور پھر جو خلافت عثمانیہ کا حجاز میں گورنر تھا وہ لے کے آیا سارے تبرکات اور لا کے رکھ دیے ترکی کے میوزیم میں اس کے بعد ایک بہت بڑی سازش کی خلافت کو توڑنے کی اور انہوں نے خلافت کو توڑا اور ایک بندے کو اٹھایا مصطفیٰ کمال اتاترک یہ ایک یہودی تھا جو یہودی مسلمان ہوتے ہیں وہ دو آدمیوں کو لے کر وہاں داخل ہوا تھا الزبیلہ فرڈیننڈ نے یہودیو کا کہا تھا کہ میں تمہیں قتل کر دوں گی تو ایک لاکھ پچہتر ہزار یہودی تھے پچہتر ہزار عیسائی ہوگئے اور ایک لاکھ ترکی آ گئے خلافت عثمانیہ والے یہودیوں کے لیے بڑے نرم دل تھے اس کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے ترکی کو سیکولر بنانے کی کوشش کی نائٹ کلب کھولے شراب عام کی یہاں تک کہ عربی زبان میں آذان تک بند کر دی ترکی کی زبان میں آذان ہوتی تھی -

پارلیمنٹ میں اس کے بعد اذان دینے کے لیے سات بندے قتل ہوئے تھے پہلے نے کہا اللّٰہ اکبر اسے گولی مار دی اسکےبعد دوسرے آیا اسے گولی مار دی اور اس طرح سات بندوں نے اذان مکمل کی لیکن پھربھی اذان عربی میں دینے کی اجازت نہ ملی اس کے بعد ترکی کے لوگ چونکہ مسلمان تھے انہوں نے ایک وزیراعظم منتخب کیا عدنان نندریس اور جلال بایار کو صدر منتخب کیا اس کے بعد وہاں کی فوج سیکولر ہمارےپرویز مشرف صاحب کی طرح انہوں نے جلال بایار کو پھانسی دی اور جلال بایار وہ پہلا صدر تھا جس کو پھانسی دی گئی اس کے بعد انہوں نے اسے جیل میں دفن کر دیا تو لوگوں نے اس کو جیل س باہر نکلوایا اور اعزاز کے ساتھ دفن کیا اور اس کے بعد جو لوگ اسلام سے محبت کرتے تھے وہ پھر کھڑے ہوئے انہوں نے سکولوں میں کام شروع کیا اور ایک بہت بڑی تحریک شروع ہوئی نجم الدین ارباکان کی اس میں سے نکلا طیب اردگان یہ چہرہ انہیں پسند نہیں آیا آخری دفعہ میں نے انہیں دیکھا وہ تلاوت کر رہے تھے تو سیکولر کو آگ اس لیے لگتی ہے کہ یہ شخص اس طرح کے نام کیوں لیتا ہے میں نے استنبول میں دیکھا سیکولر لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ بندہ خلیفہ بننا چاہتا ہے میں نے کہا پہلےوہ تھے وہ خلیفہ نہیں تھے - تو پہلے تو اس نے جوریفرنڈم کے زریعے صدر کے اختیارات واپس لیے اور پچھلے چار پانچ سال میں اس چہرے کو پوری دنیا نے دیکھا اور ایک تو یہ ہوا کہ اس بندے نے ترک قوم کی آئی ایم ایف سے جان چھڑوا دی اور سارے قرضوں سے آزاد کروا دیا اور اعلان کر دیا کہ آئی ایم ایف کو اگر قرضہ چاہیے تو ہم سے لے اور جو ڈیویلپمنٹ شروع ہوئی میٹرو ریلوے اور سب اور اس کے بعد اٹھاون مسلمان ملکوں کی ترکی مدد کر رہا ہے روہینگیا ,بنگلہ دیش افریقی ممالک اور شام کے معاملے میں دیکھیں کہ تیس لاکھ شام کے مہاجرین کو اس نے نیشنیلٹی دینے کا اعلان کر دیا ہے اور جب وہ جیتا تو تب سب سے زیادہ خوش بھی وہ ہی ہوئے تو طیب اردگان سے بیس سال پہلے چلے جاؤ تو کوئی بھی چائے خانہ آپ کو علیحدہ نہیں ملے گا ایک ساتھ شراب اور وہسکی ملیں گی تو اس نے سکولوں, کالجوں اور مسجدوں سےان شراب خانوں کودور کر دیا ہے اس کے بعد اس نے سیکولر لوگوں کو بہت بے نقاب کیا ہے - تو ابھی اس نے سیکولرز کو روک کے رکھا ہوا ہے جو کہتے تھے کہ مذہب کچھ نہیں ہے -تو اب جو مسجدوں کے امام جہاں سے پڑھتے ہیں وہاں پہ ہزاروں لاکھوں لوگ داخلہ لے رہے ہیں تو خود اس کی قرات اتنی خوبصورت ہے کہ لوگ سننا پسند کرتے ہیں اور جب میں وہاں پہ تھا تو وہ انقرہ مسجد میں نماز پڑھا رہا تھا تو اس کے پیچھے خلقت ٹوٹی تھی نما زپڑھنے کے لیے -تو اس کے بعد ا س نے اسلامی اقدار کی عزت کو منوایا ہے کبھی کسی نے سوچا تھا کہ ترکی کے اندر اذان عربی میں ہو گی کبھی کسی نے سوچا تھا کہ اس ترکی کے اندر درود کی صدائیں بلند ہوں گی اور لوگ ترکی ٹوپی پہنیں گے -ابھی انتخابات ہو رہے تھ بی بی سی, یہودیوں نے ایک غل مچایا ہوا تھا کہ طیب اردگان ہار رہا ہے وہ ہار جائے گا وہ کیوں ایسا چاہتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی جو تھا وہ رومن ایمپائر کا مرکز تھا پھر جب انہوں نے یورپی یونین بنائی تو ترکی نے کہا ہمیں بھی رکھو تو فرنچ وزیراعظم نے کہا ہمیں کوئی اسلامی ملک نہیں چاہیے اس میں تو ابھی تو برطانیہ بھی نکل گیا ہے یونین سے اس نے کہاکہ میری کرنسی تو مضبوط ہے یونان اور پرتگال سے -"

متعلقہ خبریں