وہ وقت جب ترکی کی پارلینمنٹ میں اذان دینے کی پاداش میں سات مسلمان شہید کر دئیے گئے۔ پہلے نے کہا اللّٰہ اکبر اسے گولی مار دی اسکےبعد دوسرے آیا۔۔پڑھئے رلا دینے والا واقعہ

وہ وقت جب ترکی کی پارلینمنٹ میں اذان دینے کی پاداش میں سات مسلمان شہید کر دئیے گئے۔ پہلے نے کہا اللّٰہ اکبر اسے گولی مار دی اسکےبعد دوسرے آیا۔۔پڑھئے رلا دینے والا واقعہ

وہ وقت جب ترکی کی پارلینمنٹ میں اذان دینے کی پاداش میں سات مسلمان شہید کر ... 26 جون 2018 (20:39) 8:39 PM, June 26, 2018

  الزبیلہ فرڈیننڈ نے یہودیو کو کہا تھا کہ میں تمہیں قتل کر دوں گی تو ایک لاکھ پچہتر ہزار یہودی تھے پچہتر ہزار عیسائی ہوگئے اور ایک لاکھ ترکی آ گئے خلافت عثمانیہ والے یہودیوں کے لیے بڑے نرم دل تھے اس کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک نے ترکی کو سیکولر بنانے کی کوشش کی نائٹ کلب کھولے شراب عام کی یہاں تک کہ عربی زبان میں آذان تک بند کر دی ترکی کی زبان میں آذان ہوتی تھی - پارلیمنٹ میں اس کے بعد اذان دینے کے لیے سات بندے قتل ہوئے تھے پہلے نے کہا اللّٰہ اکبر اسے گولی مار دی اسکےبعد دوسرے آیا اسے گولی مار دی اور اس طرح سات بندوں نے اذان مکمل کی لیکن پھربھی اذان عربی میں دینے کی اجازت نہ ملی اس کے بعد ترکی کے لوگ چونکہ مسلمان تھے انہوں نے ایک وزیراعظم منتخب کیا عدنان نندریس اور جلال بایار کو صدر منتخب کیا اس کے بعد وہاں کی سیکولر  فوج نے  جلال بایار کو پھانسی دی اور جلال بایار وہ پہلا صدر تھا جس کو پھانسی دی گئی اس کے بعد انہوں نے اسے جیل میں دفن کر دیا تو لوگوں نے اس کو جیل س باہر نکلوایا اور اعزاز کے ساتھ دفن کیا اور اس کے بعد جو لوگ اسلام سے محبت کرتے تھے وہ پھر کھڑے ہوئے انہوں نے سکولوں میں کام شروع کیا

متعلقہ خبریں