اسلام آباد کو 120 ملین گیلن پانی یومیہ درکار ہے لیکن شہر کو صرف 58.71 ملین گیلن۔۔۔۔۔۔۔رپرٹ منظر عام پر آ گئی

اسلام آباد کو 120 ملین گیلن پانی یومیہ درکار ہے لیکن شہر کو صرف 58.71 ملین گیلن۔۔۔۔۔۔۔رپرٹ منظر عام پر آ گئی

اسلام آباد کو 120 ملین گیلن پانی یومیہ درکار ہے لیکن شہر کو صرف 58.71 ملین ... 26 جون 2018 (13:15) 1:15 PM, June 26, 2018

  چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے ہیں کہ شہباز شریف نے خود کو ہر ادارے کا انچارج بنایا ہوا تھا۔ نگران وزیرِ اعظم پانی کی قلت پر اجلاس بلائیں، جب تک مسئلے کا حل نہ نکلے مت اٹھیں۔ تمام ذمہ دار حکام کو ایک ساتھ ملکر فیصلہ کرنا ہو گا۔ کیا حکومت صرف پانچ وزرا کے ساتھ چل سکتی ہے؟

سپریم کورٹ میں پیر کو چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے راولپنڈی اسلام آباد میں پانی کی قلت سے متعلق مقدمے کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے پانی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کو 120 ملین گیلن پانی یومیہ درکار ہے لیکن شہر کو صرف 58.71 ملین گیلن پانی فراہم کیا جارہا ہے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد کو کہاں کہاں سے پانی مل رہا ہے؟ رپورٹ آجاتی ہے، پیش رفت نہیں ہوتی۔ وزیرِ اعظم سے درخواست کروں گا کہ پانی کی قلت اور بجلی کا معاملہ دیکھیں۔ وفاقی حکومت اب تک اپنے بندے پورے نہیں کرسکی۔ کیا وفاقی حکومت پانچ لوگوں سے چل سکتی ہے؟

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے آدھے لوگ پانی سے محروم ہیں۔ اگر بارشیں نہیں ہوتیں تو لوگوں کو پانی کیسے ملے گا؟ اسلام آباد میں زیرِ زمین پانی اور خان پور ڈیم کا پانی بھی کم ہوچکا ہے۔ کوئی جگہ چھوڑی بھی ہے جہاں کنکریٹ نہ ہو؟ کنکریٹ ہونے سے زیرِ زمین ذخائر کو بارش کا پانی نہیں پہنچ پا رہا۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ آئندہ 20، 25 سال کے لیے پانی کی منصوبہ بندی کرنا پڑتی ہے۔ غفلت برتنے والوں اور آج کے حالات کے ذمے داروں کے نام بتائیں؟

اس پر نمائندہ میٹروپولیٹن کارپوریشن نے کہا کہ واجب الادا رقوم مل جائیں تو طویل المدتی منصوبوں پر بھی کام شروع ہوسکتا ہے۔ ڈھائی سال سے میٹرو پولیٹن کارپوریشن کو ایک روپیہ نہیں ملا۔ سی ڈی اے سے پیسے لے کر تنخواہیں دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سملی ڈیم اور خان پور ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول پر ہے۔ شارٹ، مڈ اور لانگ ٹرم پالیسی کیسے بنانی چاہیے؟ چالیس فی صد پانی کی لیکج کا ایشو ہے۔ حکومت ہمیں نظر آنی چاہیے۔ ہم حکومت کو بلالیتے ہیں۔

اس پر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ (واسا) کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ قرض کے پیسے واسا بننے سے پہلے کے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت کو اس نہج تک پہنچانے والوں کوعدالت آنا ہوگا۔ نیب سے تحقیقات کرائیں گے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟ آج پہلا دن ہے وہ عدالت میں نہیں۔ جنگی بنیادوں پر کابینہ کی میٹنگ کریں۔ آج رات کو بھی پانی کے معاملے کو دیکھیں گے۔ ہم رات تک بیٹھیں گے۔ فنڈز کے غلط استعمال پر کیوں نہ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب کو بلالیں؟

بعد ازاں چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ مسئلے کو دیکھیں اور اس کا حل تلاش کریں۔

متعلقہ خبریں