افغانستان میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا لیڈر اپنے دس ساتھیوں سمیت امریکی فورسز کے ایک فضائی حملے میں ماراگیا

افغانستان میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا لیڈر اپنے دس ساتھیوں سمیت امریکی فورسز کے ایک فضائی حملے میں ماراگیا

افغانستان میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا لیڈر اپنے دس ساتھیوں سمیت امریکی ... 26 اگست 2018 (20:50) 8:50 PM, August 26, 2018

افغانستان میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا لیڈر اپنے دس ساتھیوں سمیت امریکی فورسز کے ایک فضائی حملے میں ماراگیا ہے۔

افغان انٹیلی جنس ایجنسی نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے اتوار کو ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ داعش کا لیڈر سعد ارہابی مشرقی صوبے ننگرہار میں ہفتے کی شب افغان اور امریکی اتحادی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی میں اپنے دس ساتھیوں سمیت مارا گیا ہے۔ارہابی داعش کا چوتھا لیڈر ہے جو جنگ زدہ ملک میں 2014ء میں اس جنگجو گروپ کے ظہور کے بعد ہلاک ہوا ہے۔افغان ایجنسی نے کہا ہے کہ داعش کے ٹھکانے پر فضائی حملوں میں بھاری تعداد میں ہتھیار ،اسلحہ اور گولہ بارود بھی تباہ ہوگیا ہے۔صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے بھی داعش کے لیڈر کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج نے کہا ہے کہ اس نے افغان حکام کی بیان کردہ جگہ پر فضائی حملہ کیا تھا اور اس میں ایک دہشت گرد تنظیم کے لیڈر کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ داعش نے اپنے لیڈر کی فضائی حملے میں ہلاکت سے چند گھنٹے قبل ہی ننگرہار کے دارالحکومت جلال آباد میں الیکشن کمیشن کے مقامی دفتر کے باہر ایک تباہ کن خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔اس دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس میں بظاہر دفتر کے باہر احتجاجی دھرنا دینے والے افراد کو نشانہ بنا نے کی کوشش کی گئی تھی۔ افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد بہت تھوڑی بتائی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود انھوں نے پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع صوبے ننگرہار میں اپنے مضبوط ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ بعض تخمینوں کے مطابق افغانستان میں داعش کے جنگجوؤں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ ہے۔ داعش نے حالیہ برسوں کے دوران میں کابل ، جلال آباد اور دوسرے شہروں میں کئی ایک تباہ کن حملوں کی ذمے قبول کی ہے۔حال ہی میں افغان صوبے جوزجان میں بھی داعش نے اپنے قدم جمانے کی کوشش کی ہے لیکن انھیں وہاں سخت ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا ہے۔اس صوبے میں یکم اگست کو داعش کے ڈیڑھ سو سے زیادہ جنگجوؤں نے افغان فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔افغان فوج اور طالبان مزاحمت کاروں نے ان کے ہتھیار ڈالنے کو سراہا تھا۔

متعلقہ خبریں