پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے لیکن یہ کا م۔۔۔۔۔پاکستان نے بھارت کی اصلیت کھول کے رکھ دی

پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے لیکن یہ کا م۔۔۔۔۔پاکستان نے بھارت کی اصلیت کھول کے رکھ دی

پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے لیکن یہ کا م۔۔۔۔۔پاکستان نے ... 25 مئی 2018 (18:47) 6:47 PM, May 25, 2018

لاہور(ویب ڈیسک) ترجمان دفتر خارجہ محمد فیصل نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ :" پاکستان بھارت کے ساتھ پرامن تعلقات چاہتا ہے لیکن بھارت کسی بھی موقع پر پاکستان کو نقصان پہچانے سے باز نہیں آتا "

بھارت کے جاسوس کلبھوشن یادیو کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ :" پاکستان کلبھوشن جادیو کيس کے سلسلے ميں جولائی ميں جواب جمع کرائے گا ليکن اسے بھارت کے حوالے ہرگز نہيں کيا جائے گا"

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے مزید کہا ہے کہ :" پاکستان خطے میں اسلحے کی زیادتی کے خلاف ہے لیکن بھارت کی جدید ہتھیاروں کی خریداری خطے میں عدم استحکام کا باعث ہوگی تاہم ملکی دفاع کو مضبوط بنانے کیلئے ہر طرح کا قدم اٹھائیں گے۔"انہوں نے مزید کہا ہے کہ :" کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزیاں جاری ہیں جس پر قائم مقام سیکریٹری خارجہ نے بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کیا اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی سے شہادتوں پر شدید احتجاج کیا۔لیکن بھارت نے اس کےباوجود حملے بند نہیں کیے -"

ڈاکٹر فیصل نے کہا ہے کہ :" عالمی بینک کے ساتھ کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو منصوبے پربات چیت ہوئی ہے جس میں پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کی ہے "ان کا کہنا تھا کہ:"عالمی بینک کو پاکستانی وفد نے کشن گنگا اور رتلے منصوبوں پر تحفظات سے آگاہ کیاہے، اور اس پر یہ واضح کیا ہے کہ یہ منصوبے صرف متنازع نہیں بلکہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہیں۔ پاکستان نے کشن گنگا منصوبے کا معاملہ عالمی بینک کے سامنے موثر انداز سے اٹھایا ہے تاہم عالمی بینک کی جانب سے ناکافی دلائل کہنے پر یہ معاملہ ختم نہیں ہوجاتا-"

ان کا کہنا ہے کہ :" امریکا اتحادی امدادی فنڈز اور مالی امداد بند کرچکا ہے لیکن امریکا کی جانب سے پاکستان کی معاشی و سماجی امداد کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ "ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہےکہ:" امریکی سفارتکاروں کی ہراسگی سے متعلق کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی۔"

اقلیتوں کے ساتھ بھارت میں برے سلوک کے متعلق انہوں نے کہا ہے کہ :" تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے، خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ نفرت آمیز سلوک افسوسناک ہے۔" بھارت میں قید پاکستانی قیدیوں کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ:"ہم نے بھارتی جیلوں سے 54 پاکستانی قیدیوں کی جلد رہائی کا معاملہ بھی اٹھایا ہے جب کہ پاکستان نے عام شہریوں، ماہی گیروں اور 18 سال سے کم عمر بچوں کی رہائی کی تجویز بھی دی ہے۔"

متعلقہ خبریں