آئی ٹی کے ماہر رابرٹ ریڈلے کو جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے کزن۔۔۔۔۔۔رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے۔۔۔۔ لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں۔ مریم نواز نے عدالت کے طرف سے پوچھے گئے ایک سو اٹھائیس سوالوں کے جواب دے دیے

آئی ٹی کے ماہر رابرٹ ریڈلے کو جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے کزن۔۔۔۔۔۔رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے۔۔۔۔ لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں۔ مریم نواز نے عدالت کے طرف سے پوچھے گئے ایک سو اٹھائیس سوالوں کے جواب دے دیے

آئی ٹی کے ماہر رابرٹ ریڈلے کو جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے ... 25 مئی 2018 (12:39) 12:39 PM, May 25, 2018

آج مریم نواز نے آج عدالت کے طرف سے پوچھے گئے ایک سو اٹھائیس سوالوں کے جواب دے دیے ہیں - مریم نواز سےپہلے یہ سوال نواز شر یف سے کیے گئے تھے اور مریم نواز کے بعد یہ سوال اسی کیس میں نامزد کیپٹن صفدر سے کیے جائیں گے-

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نیب کی جانب سے دائر ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں جب کہ کیس میں نامزد تینوں ملزمان نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کمرہ عدالت میں موجود ہیں۔

مریم نواز نے کل عدالت کی جانب سے پوچھے گئے ایک سو اٹھائیس سوالات میں سے صرف چھیالیس کے جواب دیے تھے اور آج باقی سوالوں کے جواب بھی دےدیے ہیں آج اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ:" ٹرسٹ ڈیڈ سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی تھی اور سپریم کورٹ کی طرف سے دیے گئے سوالات میں ٹرسٹ کا سوال نہیں تھا۔ "

مریم نواز نے کہا کہ:" جے آئی ٹی نے اپنے طریقے سے ہی اس یہ کارروائی آگے بڑھائی ہے اور انہوں نے بدنیتی کی بنیاد پر نام نہاد آئی ٹی ماہر سے رائے مانگی ہے۔ آئی ٹی ماہر کو انگیج کرنا اور دستاویزات دینے کا عمل انتہائی مشکوک ہے۔"

مریم نواز کا کہنا ہےکہ : "آئی ٹی کے ماہر رابرٹ ریڈلے کو جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء کے کزن اختر راجا کے ذریعے ہائر کیا گیاہے، یہ نہیں بتایا کہ جے آئی ٹی نے خود یا بذریعہ دفتر خارجہ ریڈلے کی خدمات کیوں نہیں لیں۔

اور ایسی رپورٹ حاصل کی گئی جو جے آئی ٹی کے مذموم مقاصد پورے کرتی ہے"

مریم نواز نے کہا ہے کہ:" اختر راجا کے زریعے رابرٹ ریڈلے کی خدمات لینے کا مقصد صرف اور صرف جعلی رپورٹ لینا تھا یہ رپورٹ حاصل کرنے کا مقصد مجھے اور میرے شوہر کو اس کیس میں ملوث کرنا تھا۔"

مریم نواز کا کہنا تھا کہ :"یہ رپورٹ اسکین کاپی کی بنیاد پر تیار کی گئی ہےجو سائنسی فرانزک اصولوں سے مطابقت بھی نہیں رکھتی ہے اور یہ رپورٹ قانون کے مطابق قابل قبول شہادت بھی نہیں ہے جب کہ رپورٹ میں دی گئی رائے نہ ہی مکمل ہے اور نہ ہی زیادہ مضبوط ہے۔"

مریم نواز نے کہا کہ:" ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرنے والے چار افراد میں سے تین جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے ہیں جنہوں نے اس کی تصدیق کی ہے اور جرمی فری مین نے بھی ایک خط کے ذریعے ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی۔

رابرٹ ریڈلی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اُسے صرف گواہی دینے میں دلچسپی تھی-"

مریم نواز کاکہنا ہے کہ :"رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ حقائق کے منافی ہے - واجد ضیاء نے عدالت کو بتایا کہ یہ رپورٹ جے آئی ٹی کے پاس تھی، مجھ سے اس رپورٹ سے متعلق سوالات نہیں کیے گئے۔"

مریم نواز نے کہا کہ :" جب میں شامل تفتیش ہوئی تو رابرٹ ریڈلے کی رپورٹ کی مجھ سے دوبارہ تصدیق نہیں کرائی گئی اور جب میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئی تو یہ رپورٹ اس وقت جے آئی ٹی کی پاس تھی،میں نہیں جانتی کب،کیسے اور کن شرائط پر ٹرسٹ ڈیکلیریشن کے دو سیٹ ریڈلے لیبارٹری کو ملےہیں-"

مریم نواز نے مزید کہا کہ :"میں نہیں جانتی کہ کس نے تصدیقی سرٹیفکیٹ لندن پہنچائے ہی اور کس نے رپورٹ جے آئی ٹی کو دینے کے لئے ریڈلے سے وصول کی ہے-ٹرسٹ ڈیڈ ریڈلے کی لیبارٹری اور جے آئی ٹی تک پہنچانے والے کا بھی سیزرمینیو نہیں ہے۔"

مریم نواز نے کہا ہے کہ :" رابرٹ ریڈلے نے یہ تسلیم کیا ہے کہ ویک اینڈ پر یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے اور یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ "ونڈو ویسٹا بیٹا ون"کمرشل لانچ سے پہلے موجود تھی جسے اُس نے ڈاؤن لوڈ کر کے استعمال کیاہے- رابرٹ ریڈلے فونٹ کی شناخت کا ماہر نہیں تھا اور اس کی سی وی تصدیق کرتی ہے کہ اسے کمپیوٹر سائنسز میں مہارت نہیں ہے ۔"

مریم نواز کا کہنا ہے کہ :"ریڈلے بین الاقوامی معیار کے تحت یہ بتانے کا پابند تھا کہ اس نے کن معلومات کی بنا پر رائے قائم کی ہے - اس نے کسی کتاب، آرٹیکل یا ویب سائٹ کا حوالہ بھی نہیں دیاہے -"

مریم نواز نے کہا ہےکہ :" یہ حقیقت ہے کہ میرے دادا میاں شریف پورے خاندان کی کفالت کرتے تھے جو خاندان کے ارکان کے اخراجات اٹھاتے اور سب کو ماہانہ جیب خرچ بھی دیتے تھے"

انہوں نے کہا ہے کہ:" حسین نواز کے انٹرویو سے متعلق سوال مجھ سے متعلق نہیں ہیں لندن فلیٹس حسین نواز کی ملکیت ہیں -اور نیلسن اور نیسکول کمپنی کے بینیفشل مالک بھی حسین نواز تھے، ان دونوں کمپنیوں کا ٹرسٹ ڈیڈ کے ذریعے ٹرسٹی بنایا گیاہے"

مریم نواز نے کہا کہ:" حسین نواز کے نجی ٹی وی کو انٹرویو کی سی ڈی اور ٹرانسکرپٹ قانون کے مطابق نہیں ہے ، میں نے جےآئی ٹی میں دونوں نوٹری پبلک سے تصدیق شُدہ ڈیکلریشن پیش کئے ہیں "

مریم نواز کا کہنا تھا کہ:" سپریم کورٹ نے مجھے اور میرے خاوند کو شامل تفتیش ہونے کا حکم نہیں دیا تھا جب کہ واجد ضیاء نے جان بوجھ کر بدنیتی پر مبنی من گھڑت بیان دیا تھا اور کہا تھا کہ میں نے ٹرسٹ ڈیڈ کی دوبارہ تصدیق کی ہے "

متعلقہ خبریں