سُپریم کورٹ میں اسلام آباد پانی کی قلت کے ازخُود نوٹس کی سماعت آج کی گئی۔چیف جسٹس برھم

سُپریم کورٹ میں اسلام آباد پانی کی قلت کے ازخُود نوٹس کی سماعت آج کی گئی۔چیف جسٹس برھم

سُپریم کورٹ میں اسلام آباد پانی کی قلت کے ازخُود نوٹس کی سماعت آج کی گئی۔چیف ... 25 جون 2018 (22:46) 10:46 PM, June 25, 2018

سُپریم کورٹ میں اسلام آباد پانی کی قلت کے ازخُود نوٹس کی سماعت آج کی گئی تھی جس کے مُتعلق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کی قلت کے مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ شارٹ ٹرم ,مڈ ٹرم اور لانگ ٹرم.پالیسی کیسے بنانی چاہئیے . سیکرٹری اٹارنی کی جانب سے ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں یہ بتایا گیا کہ اسلام آباد کو یومیہ 158.2 ملین گیلن پانی کی ضرورت ہے . جبکہ اسلام آباد ک انتہائی کم مقدار میں پانی مہیا کیا جا رہا ہے . نمائندووں کا کہنا تھا کہ راولپنڈی کونٹونمنٹ کے پاس ہمارے بقایا جات ہیں اور ایک اور ادارے کے پاس بھی ہمارے 2 ارب سے زائٰد کے بقایا جات ہیں جس کی وجہ سے ہم پورا پانی فراہم نہیں کر رہے ہیں . چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر بارشیں نہ ہوئیں تو پانی کیسے ملے گا ,وزیر اعظم جنگی بُنیادوں پر کابینہ سے میٹنگ کریں ہم آج رات کو بھی پانی کے مسئلے کو دیکھیں گے .سملی اور خان پُور ڈیم میں پانی کی مقدار ڈید پوائنٹ تک پہنچ گئی ہے کیوں نہ سابق وزیرِ اعلٰی پنجاب کو عدالت بُلا لیں غفلت برتنے والوں کے نام بتائیں . اسلام آباد کے آدھے لوگ پانی سے محروم ہیں پانی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے ,صوبائی , پارلیمانی اور لوکل حکومتیں اس مسئلے کواسلامک آفس میں بیٹھ کر حل کریں اس مسئلے پر بحث کر کے مُجھے تجویز پیش کہ جائے .

متعلقہ خبریں