اسلام سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار مکہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ تجارت کے سلسلے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ شام کے ملک تشریف لے گئے۔

اسلام سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار مکہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ تجارت کے سلسلے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ شام کے ملک تشریف لے گئے۔

اسلام سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار مکہ کے بڑے ... 24 مئی 2018 (22:54) 10:54 PM, May 24, 2018

اسلام سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار مکہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ تجارت کے سلسلے میں آپ رضی اللہ تعالی عنہ شام کے ملک تشریف لے گئے۔ یہاں قیام کے دوران ایک رات آپؓ نے خواب دیکھا کہ چاند اور سورج آسمان سے نیچے اتر آئے ہیں اور آپؓ کی گود میں داخل ہوگئے ہیں ، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک ہاتھ سے چاند اور ایک ہاتھ سے سورج کو پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور انھیں اپنی چادر میں چھپا لیا۔ صبح آپ رضی اللہ عنہ

بیدار ہوئے تو اس عجیب و غریب خواب کی تعبیر پوچھنے کے لئے قریب ہی ایک راہب کے پاس تشریف لے گئے۔ اس راہب نے سارا خواب سن کر آپ ؓ سے آپ کا نام پوچھا ، آپؓ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میرا نام ابوبکر ہے اورمیں مکہ معظمہ کا رہنے والا ہوں۔ میرا تعلق قبیلہ قریش سے ہے . راہب نے سوال کیا کہ آپ ؓ کا ذریعہ معاش کیا ہے ؟۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا میں تجارت کرتا ہوں۔ عیسائی راہب نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا‘ مبارک ہو، ”نبی آخرالزماں حضرت احمد صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لے آئے ہیں اور ان کا تعلق بھی قبیلہ قریش سے ہے۔ وہ آخری نبی ہیں اگر یہ نبی پاک نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ زمین اور آسمان کو پیدا نہ فرماتا اور نہ کسی نبی کو پیدا فرماتا۔ وہ تمام رسولوں کے سردار ہیں۔ ابوبکر ؓ! تم ان کے دین میں شامل ہو گے اور ان کے بعد ان کے خلیفہ بنو گے۔ اس راہب نے کہا یہ آپ کے خواب کی تعبیر ہے ۔ اے ابوبکر ؓ میں نے اس نبی ﷺ کی تعریف و توصیف تورات میں پڑھی ہے اور زبور و انجیل میں ان کا ذکر ہے۔ میں ان نبی ﷺ پر ایمان لاچکا ہوں ،میں مسلمان ہوں لیکن عیسائیوں کے خوف سے اپنے ایمان اور مسلمان ہونے کا اظہار نہیں کرتا۔ لیکن آج تم سے ساری حقیت بیان کردی ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اپنے خواب کی تعبیر سنی، تو بے حد متاثر ہوئے اور دل پر رقت طاری ہوگئی ۔ ، آپ ؓ فوراََ مکہ معظمہ واپس آئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر کے ان کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر دل کو مسرت ہوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی ابوبکر ؓ کو دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا۔ ابوبکر ؓ ! تم آگئے ، کلمہ پڑھو اور دین حق میں داخل ہوجاؤ، ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا کوئی معجزہ دیکھ سکتا ہوں۔؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا ”ملک شام میں جو خواب دیکھ کر آئے ہو اور راہب نے جو تعبیر بتائی ہے وہ میرا معجزہ ہی تو ہے“۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ سن کر پکار اٹھے۔ "سچ فرمایا اے اللہ کے رسول ﷺ آپ نے. میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ کے سچّے رسول ہیں

متعلقہ خبریں