فاٹا کیحوالے سے قومی اسمبلی نے بڑا قدم اٹھا لیا۔

فاٹا کیحوالے سے قومی اسمبلی نے بڑا قدم اٹھا لیا۔

فاٹا کیحوالے سے قومی اسمبلی نے بڑا قدم اٹھا لیا۔ 24 مئی 2018 (16:24) 4:24 PM, May 24, 2018

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات، 31 ویں آئینی ترمیم کا بل منظور کر لیا گیا۔ فاٹا اصلاحات بل کے مطابق صوبائی قوانین کا اطلاق فوری طور پر ہو گا، این ایف سی ایوارڈ کے تحت 100 ارب روپے اضافی بھی ملیں گے۔

وزیر قانون محمود بشیر ورک نے بل ایوان میں پیش کیا، قومی اسمبلی نے 31 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری دی، ن لیگ، پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی، ایم کیوایم اور جماعت اسلامی نے بل کی حمایت جبکہ جے یو آئی ف اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے مخالفت کی۔ قومی اسمبلی کے 229 ارکان نے 31 ویں آئینی ترمیم کے حق میں اور 11 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔ بل منظور کرانے کیلئے ارکان اسمبلی کے 228 ووٹ درکار تھے۔

قبل ازیں قومی اسمبلی میں فاٹا بل پیش کیے جانے کا عمل تاخیر کا شکار رہا، بل کی منظوری کے لیے 228 ارکان کی ضرورت تھی جب کہ قومی اسمبلی میں 200 ارکان موجود تھے۔

ایوان آمد پر عمران خان کا کہنا تھا کہ آج اہم دن ہے، اس لیے پارلیمنٹ آیا ہوں۔ شاہ جی (خورشید شاہ) صحیح اپوزیشن لیڈرہوتےتوپارلیمنٹ ضرور آتا۔

قومی اسمبلی میں فاٹا بل تاخیر کے بعد پیش کردیا گیا، بل پیش ہوتے ہی جے یو آئی فضل الرحمان نے مخالفت کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا، پختونخوا ملی عوامی پارٹی اور پی ٹی آئی کے منحرف رکن داوڑ کنڈی نے بھی مخالفت کی۔

پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی میں حکومتی عدم موجودگی پر سپیکر قومی اسمبلی نے وقفہ سوالات کو موخر کر دیا ۔ جبکہ حکومتی اتحادی جماعت کی طرف سے کورم کی نشاندہی کر دی گئی تاہم اتحادی جماعت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ۔

مہمند ایجنسی سے منتخب ممبر قومی اسمبلی ملک بلال رحمان نے کہا کہ فاٹا کو صوبے کا درجہ دیا جائے، ہم نے انضمام نہیں اصلاحات مانگی تھیں۔ پی میپ کے عبد القہار ودان نے کہا کہ فاٹا کا بل متنازع ہے، یہ بل ہمیں منظور نہیں۔ جمال الدین نے کہا کہ فاٹا پر کوئی نظام مسلط کیا گیا تو برداشت نہیں کریں گے

واضح رہے کہ فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا بل آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ انضمام پر جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پشتونخوا میپ کے سوا تمام جماعتیں انضمام پر متفق تھیں۔

آئینی بل کے مطابق پاکستان کے تمام قوانین اب فاٹا پر لاگو ہوں گے جبکہ علاقے میں صدر اور گورنر کے بجائے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اختیارات نافذ ہوں گے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ارکان اسمبلی سے کہا تھا کہ وہ آج کے اجلاس میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں

متعلقہ خبریں