مولوی صاحب ھمارے معاشرے کا ایک کردار

مولوی صاحب ھمارے معاشرے کا ایک کردار

مولوی صاحب ھمارے معاشرے کا ایک کردار 24 مئی 2018 (01:16) 1:16 AM, May 24, 2018

شہر کے بیچ میں جامع مسجد کے دروازے کے سامنے عادل کی چائے کا ھوٹل ھے ۔

اس کا ھوٹل خوب چلتا ھے ۔

اس نے ھوٹل کی دیوار پر پچاس انچ کی ایل سی ڈی لگا رکھی ھے جس پر سارا دن لوگ فلمیں دیکھتے ھیں ۔

ھندی ۔۔۔چائنیز ۔۔۔ انگریزی اور کبھی کبھار پاکستانی ۔۔اور رات دس بجے کے بعد والے شو صرف بالغ افراد کے لئے ھوتے ھیں ۔ ۔۔۔عادل کو فلموں کی کافی جانکاری ھے ۔ ھارر ، رومانوی ۔۔۔ تاریخی ۔۔۔آرٹ۔۔۔ اور پورن ھر طرح کی فلموں کا وسیع علم ھے اس کے پاس۔۔لیکن اسکے ساتھ ساتھ عادل پانچ وقت کا نمازی بھی ھے ۔ جیسے ھی اذان ھوتی ھے وہ دکان چھوٹے لڑکے کو سونپ کر مسجد کا رخ کرتا ھے

اس کا ماننا ھے کہ پنجگانہ نماز کی بدولت ھی اس کے کاروبار میں برکت ھے ۔

یوں عادل کا سارا دن فلموں میں گزرتاھے اور پانچ مرتبہ کچھ منٹ مسجد میں گزرتے ہیں -

مگر تمام لوگوں کا ماننا ھے کہ عادل ایک نیک اور نمازی پرھیزگار آدمی ھے ۔

مسجد کے امام کا نام مولوی.......۔۔ ھے ۔( نام نہیں بتاؤں گا)

پچیس سال کا خوب رو باریش نوجوان ھے ۔۔۔ تازہ تازہ درس نظامی کر کے آیا ھے اور مسجد میں بلامعاوضہ امامت و تدریس سر انجام دیتا ھے ۔

نماز پڑھانے اور بچوں کو درس دینے کے بعد مسجد سے ملحق حجرے میں جا بیٹھتا ھے اور کتابوں میں کھو جاتا ھے

کل عصر کی نماز کے بعد مولوی صاحب کا چائے پینے کا من ھوا تو مولانا صاحب کے دل میں خیال آیا کیوں نہ آج اپنے عادل بھائی کے ھوٹل سے چائے پی جائے۔۔۔ ۔

مسجد کے صدر دروازے کے سامنے عادل کا ھوٹل ھے۔۔۔۔۔چنانچہ وہ حجرے کی کنڈی لگا کر چپل پہنے ھوئے ھوٹل میں داخل ھوئے ۔تمام فلم بین جو پیشاب روکے ،۔۔۔ آنکھیں پھاڑے فلم بینی میں مست تھے ، کہ۔۔۔مولوی صاحب کو دیکھ کر یوں چونکے جیسے کوئی خلائی مخلوق ھوٹل میں داخل ھو گئی ھو ۔ ۔۔۔۔مولوی....... صاحب نے چائے کا کہا اور ٹی وی پر لگی فلم دیکھنے لگ گئے۔۔۔ترچھی آنکھ سے سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگ گئے ۔۔ صاف معلوم پڑتا تھا کہ اس وقت ھوٹل میں مجرم فقط ایک ذات تھی اور وہ تھی

"مولوی...... صاحب "۔کی ذات۔۔۔

چائے پینے اور پندرہ بیس منٹ فلم دیکھنے کے بعد مولوی صاحب حجرے میں لوٹ آئے

نماز مغرب کی اذان دے کر مولوی صاحب مصلے پر امامت کے لئے تشریف لائے تو مقتدیوں کے چہرے یوں بدلے ھوئے تھے جیسے کوفہ والوں کے بوتھے مسلم بن عقیل کو دیکھ کر بدل گئے تھے۔۔۔ ۔ اطراف میں بات پھیل چکی تھی کہ مولوی صاحب فلمیں بہت دیکھتے ھیں اور ان کے پیچھے نماز جائز نہیں ۔۔۔۔ چنانچہ مولوی صاحب کی چھٹی کروا دی گئی

عشاء کے وقت جب مولوی...... صاحب اپنا سامان سمیٹے مسجد سے نکل رھے تھے تو عادل بھائی کے ھوٹل میں بیٹھے چاچا شریف نے عادل کو پکارتے ھوئے کہا

"اچھا کیا کہ مولوی صاحب کی چھٹی کروا دی گئ ۔ ایسے ھی مولویوں کی وجہ سے اسلام بدنام ھو رھا ھے اور ھم مسلمانوں کی عزت نہیں ھے ۔"

عادل نے ھاں میں ھاں ملائی اور پھر سے سب دوبارہ فلم دیکھنے میں مگن ھو گئے-

یہ ھے ھمارے معاشرے کا حال