شہزادوں نے امام مالک رحمہ اللہ کے پاس حکم بھجوایا کہ وہ دربار میں آکر ان کو مؤطا کا درس دیا کریں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ علم کی عظمت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے شہزادوں سے دوٹوک کہلا بھیجا: علم ایک بیش قیمت چیز ہے، وہ خود کسی کے پاس نہیں جاتا بلکہ طلبگار خود اس کے پاس جایا کرتے ہیں۔

شہزادوں نے امام مالک رحمہ اللہ کے پاس حکم بھجوایا کہ وہ دربار میں آکر ان کو مؤطا کا درس دیا کریں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ علم کی عظمت کو بخوبی سمجھتے تھے۔ انہوں نے شہزادوں سے دوٹوک کہلا بھیجا: علم ایک بیش قیمت چیز ہے، وہ خود کسی کے پاس نہیں جاتا بلکہ طلبگار خود اس کے پاس جایا کرتے ہیں۔

شہزادوں نے امام مالک رحمہ اللہ کے پاس حکم بھجوایا کہ وہ دربار میں آکر ان کو ... 24 مئی 2018 (00:40) 12:40 AM, May 24, 2018

شہزادوں نے امام مالک رحمہ اللہ کے پاس حکم بھجوایا کہ وہ دربار میں آکر ان کو مؤطا کا درس دیا کریں۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ علم کی عظمت کو بخوبی سمجھتے تھے۔

انہوں نے شہزادوں سے دوٹوک کہلا بھیجا: علم ایک بیش قیمت چیز ہے، وہ خود کسی کے پاس نہیں جاتا بلکہ طلبگار خود اس کے پاس جایا کرتے ہیں۔ اگر آپ علم کے شائق ہیں تو میرے پاس آکر درس لیں۔

شہزادوں کو شیخ کی یہ بات اچھی نہ لگی۔ انہوں نے خلیفہ مہدی سے شکایت کی کہ شیخ نے ان کے مرتبہ کا خیال نہ کرتے ہوئے جواب دیا ہے۔ مگر خلیفہ شیخ کی عظمت سے واقف تھا اس نے شہزادوں کو حکم دیا کہ وہ شیخ کے پاس مؤطا سننے جایا کریں۔

شہزادوں کا اتالیق ان کو لے کر شیخ کی مجلس میں پہنچا،اس نے امام صاحب سے کہا :خلیفہ کا حکم ہے کہ ان کو مؤطا پڑھ کر سنائیں۔

امام صاحب نے فرمایا:ہمارے علماء محدثین کا یہ دستور رہا ہے کہ طلباء پڑھتے ہیں اور شیوخ سنتے ہیں، اس لئے یہ لوگ مؤطا پڑھیں، ہم سنیں گے۔

اتالیق نے کہا:لیکن یہ تو شہزادے ہیں۔ عام طلباء سے ان میں کچھ امتیاز ہونا چاہئے۔

فرمایا:علم کی نظر میں سب لوگ ایک ہیں۔

مجبوراً شہزادوں کو ہی پڑھنا پڑا۔

میں خلیفہ ہارون رشید دونوں شہزادوں امین و مامون کو لے کر حج کو گیا۔ اس نے امام مالک رحمہ اللہ کو حکم بھیجاکہ وہ مؤطا لے کر دربار خلافت میں پہنچیں اور امین و مامون کو اس کا درس دیں۔

چندسال قبل ہارون رشید کو شہزاد گی کے زمانے میں خلیفہ مہدی نے امام مالک رحمہ اللہ کو درس حدیث کے لئے طلب کیا تھا تو انہوں نے صاف صاف انکار کردیاتھا۔ اب ایک بار پھر اسی طرح کی آزمائش میں مبتلا ہوئے لیکن انہوں نے اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ان کے پاس ہارون رشید کا حکم پہنچا تو وہ بغیر مؤطا لئے اس کے پاس پہنچے۔ ہارون نے پوچھا: آپ مؤطا نہیں لائے۔

فرمایا: علم تیرے گھر سے نکلا ہے ( بنی عبدالمطلب سے) خواہ اس کو ذلیل کر، خواہ عزت دے۔

ہارون رشید یہ سن کر متأثر ہوا۔ وہ امین و مامون کو لے کر خود امام مالک رحمہ اللہ کی مجلس درس میں حاضر ہوا، وہاں طلباء کا ہجوم تھا۔

خلیفہ نے کہا:اس بھیڑ کو الگ کردیجئے۔

امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: کسی مخصوص شخص کے لئے عام لوگوں کے فائدے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: امیر المومنین! انکساری پسندیدہ چیز ہے۔

یہ سن کر ہارون رشید مسند سے اُتر کروہیں بیٹھ گیا جہاں عام طلباء بیٹھے تھے، اس نے امام صاحب سے مؤطا پڑھنے کو کہا لیکن یہ کہہ کر منع کردیا کہ یہ ہمارا دستور نہیں ،چنانچہ ایک طالب علم معین بن عیسیٰ نے مؤطا کی قرأت کی اور ہارون رشید اور شہزادوں نے اس کو سنا۔

ایک مرتبہ خلیفہ مہدی جب مدینہ منورہ گیا ہوا تھا تو اس نے حضرت امام مالک رحمہ اللہ کو بلانے کے لئے سواری بھیجی، آپ نے سواری واپس کردی اور فرمایا :جن گلیوں میں سرکارِ دوعالم محمدﷺ پیدل چلتے تھے کیا ان گلیوں میں میں سوار ہو کر چلوں گا، وہ اپنی بیماری کی پرواہ کئے بغیر گرتے پڑتے خلیفہ کے دربار میں پہنچے