سری سقطی کو کی ایک درخت نے نصیحت ‎

سری سقطی کو کی ایک درخت نے نصیحت ‎

سری سقطی کو کی ایک درخت نے نصیحت ‎ 24 جون 2018 (13:21) 1:21 PM, June 24, 2018

دوپہر کا وقت تھا اور سری سقطی پیدل جا رہے تھے .نیند کا غلبہ ہوا تو ایک درخت کے نیچے سو گئے .جب آنکھ کھلی تو ایک آواز سنائ دی. اے سری تو میرے جیسا بن جا . جب پتا چلا کہ آواز درخت سے آرہی ہے تو پوچھا : اے درخت میں تجھ جیسا کیسے بن سکتا ہوں .

درخت نے کہا :اے سری جو لوگ مجھ پر پتھر برساتے ہیں میں ان کو پھل لوٹاتا ہوں .

سری سقطی کو یہ سن کر حیرت ہوئ مگر فوراّ ذھن می یہ خیال آیا اور بولے : اے درخت تو اگر بہت اچھا ہے تو مالک نے تجھے آگ کی غذا کیوں بنایا .

درخت : اے سری مجھ میں خوبی بھی بڑی ہے پر خامی نے اس پر پانی پھیر دیا مالک کو میری یہ خامی اتنی نا پسند ہے اس نے مجھے آگ کی غذا بنا دیا میری وہ خامی یہ ہے ہوا کا رخ جس طرف ہوتا ہے میں اس جانب ہی ڈول جا تا ہوں . میرے باطن میں استقامت نہیں .ِ

متعلقہ خبریں