بیت المقدس ایک ہزار سال پرانا تعویذ دریافت

بیت المقدس ایک ہزار سال پرانا تعویذ دریافت

بیت المقدس ایک ہزار سال پرانا تعویذ دریافت 24 جون 2018 (13:10) 1:10 PM, June 24, 2018

ماہرین آثار قدیمہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں کھدائی کےدوران مسجد اقصیٰ المبارک سے متصل سلوان قصبے سے مٹی سے تیار کردہ ایک چھوٹی نایاب تختی دریافت کی ہے جس پر عربی زبان کے الفاظ درج ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مہر نہیں ہوسکتی. تاہم غالب امکان یہ ہے کہ یہ کوئی تعویذ ہے جو اس دورمیں تحفظ کے لیے لکھا گیا۔

غیر ملکی ذرائع کمطابق ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ مٹی سے تیار کردہ اس ٹکڑے کا حجم ایک سینٹی میٹر ہے اور اس پر عربی زبان پرمشتمل دو سطریں واضح دیکھی جاسکتی ہیں۔ پہلی سطر میں’کریم یتکل علی اللہ‘ اور دوسری سطر میں’ اللہ رب العالمین‘ کے الفاظ منقش ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہ ظاہر یہ کسی تحریر کا حصہ یا دستاویزات کی مہر نہیں لگتا بلکہ یہ عباسی دور میں لکھا گیا کوئی تعویذ ہے کیونکہ اس دور میں اس خطے میں تعویذ گنڈے کا کلچر عام تھا اور یہ قریبا ایک ہزار سال پرانا تعویذ ہے۔

فلسطینی ماہر آثار قدینہ اور وزارت سیاحت کے سابق سیکرٹری ڈاکٹر حمدان طہ کا کہنا ہے کہ یہ ایک حیران کن دریافت ہے۔ اس سے ہم عباسی دور حکومت کے آخری زمانے کی روایات اور عقائد کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس طرح کے تعویذ نہ صرف عباس دور میں تھے بلکہ آج ہمارے دور میں بھی موجود ہیں۔

متعلقہ خبریں