چودھری نثار صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچی کی شادی ہوتی ہے اور پانچ چھ بچے ہونے کے بعد وہ ناراض ہو کے میکے چلی جاتی ہے اس کا دیور۔۔۔۔۔پڑھئے دلچسپ تجزیہ

چودھری نثار صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچی کی شادی ہوتی ہے اور پانچ چھ بچے ہونے کے بعد وہ ناراض ہو کے میکے چلی جاتی ہے اس کا دیور۔۔۔۔۔پڑھئے دلچسپ تجزیہ

چودھری نثار صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچی کی شادی ہوتی ہے اور پانچ چھ بچے ... 24 جون 2018 (09:13) 9:13 AM, June 24, 2018

اے آر وائی نیوز کے پروگرام ''سوال یہ ہے" میں بات کرتے ہوئے عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ :"ن لیگ کا تو مجھے نہیں پتہ لیکن پاکستان پہ دو تین خاندان مسلط ہو گئے ہیں اور ہر کسی نےایک کروڑ ستر لاکھ غلام بنا لیے ہے -اور چودھری نثار صاحب کی پریس کانفرنس تو بس میری خواہش یی ہے کہ ان کی پریس کانفرنس میں میں کوئی کام کی خبر سنوں - چودھری نثار صاحب کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بچی کی شادی ہوتی ہے اور پانچ چھ بچے ہونے کے بعد وہ ناراض ہو کے میکے چلی جاتی ہے اس کا دیور اسے فون کرتا ہے کہ بھا بھی آپ گھر آ جائیں وہ کہتی ہے نہیں میں نے نہی آنا تمہارے بھائی نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے -پھر سسر کا فون آتا وہ کہتی ہے آپ میرے لیے بڑے محترم ہیں لیکن میں نہیں آؤں گی آپ کے بیٹے نے میرے ساتھ بڑی زیادتی کی ہے -پھر ساس کا فون آتا ہے تو اسے بھی یہی کہتی ہے -تو پھر کچھ دن بعد فون آنے بند ہو جاتے ہیں تو وہ انتظار کرتی ہے فون کا -پھر دروازے کی گھنٹی بجتی ہے وہ کہتی ہے لگتا ہے میرے شوہر مجھے منانے آ گئے ہیں لیکن آگے سے ڈاکیہ کاغذ دے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اب آ نے کی کوئی ضروت نہیں ہے -تو چودھری نثار صاحب کا بھی یہ ہی حال ہے ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے بندہ انڈیا کی بور سے بور فلم دیکھ لیتا ہے لیکن میں ان کی پریس کانفرنس نہیں دیکھ سکتا -نہ کوئی گانا نہ کوئی کامیڈی نہ کوئی ہارر سین -پتہ نہیں خود سے ہی لگے رہتے ہیں میں نے یہ کیا میں نے نواز شریف کا بوجھ اٹھایا کیا وہ خود نہیں اٹھا سکتے تھے اپنا بوجھ اور آپ اپنا بوجھ نہیں اٹھا سکتے آپ نے کہا کہہ پارٹی کو میں نے چلایا -آپ کراچی جاؤ سرگودھا جاؤ روالپنڈی جاؤ لیکن آپ ایک حلقے تک محدود رہو اور آپ شہباز شریف یا نواز شریف کو کہیں کہ مجھے ایک ٹکٹ دلا دو -میں چودھری نثار صاحب سے گزارش کرتا ہیں کہ آُپ سے کچھ نہیں بولا جائے گا آپ بوجھ نہیں اٹھا سکتے آپ اب آتے ہیں زعیم قادری کی طرف اکثر لوگ پارٹی چھوڑتے رہتے ہیں اور ختلافات ہوتے رہتے ہیں یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے لیکن میری نظر میں سیاست میں کوئی غلام نہیں ہونا چاہیے -جب سے نواز شریف کی حکومت بنی ہے تب سے پہلی دفعہ کسی نے للکارا ہے کہ او حمزہ تمہاری اور تمہارے باپ کی زمین نہیں ہے -اور چودھری نثار کچھ اور سال گزر جائیں تو تب بھی یہ ہی کہیں گے کہ مریم نواز بیمار ہیں اور مجھے بھی دل کی بیماری ہے تو میں اونچا نہیں بول سکتا -تو جو دس سال جمہوریت کا تسلسل چلا یے جس کے میں بھی حق میں ہوں اس کا نتیجہ کیا نکلا کہ جو پارٹی کہتی تھے کہ موروثی سیاست کو ختم کریں گے انہوں نے بھی الیکٹیبل کو چن لیا -اور میاں نواز شریف کو تو غلام رکھنے کی عادت ہے اور ایک دو اور کارکن کہہ رہے ہیں کہ ہم بھی ان کے خلاف آئیں گے تو نواز شریف نے جو بویا ہے اب انہیں کاٹنا بھی پڑے گا -"

متعلقہ خبریں